تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 195
۱۹۲ آئے گی۔تمہاری زندگی کا لمبا ہونا مقدر ہے۔اور یہ نیک فال ہے کہ ابھی تمہاری جوانی کا وقت نہیں آیا۔اگر تم 4 سال کی عمر میں ابھی نیم جوانی کی حالت میں ہو تو معلوم ہوا کہ تمہاری عمر نہیں ہے۔عمر اور جوانی میں کچھ نسبت ہوتی ہے لمبی عمر ہو تو جوانی دیر سے آتی ہے اور اگر جوانی دیر سے آئے تو معلوم ہوا کہ عمر لمبی ہوگی۔بہر حال اس زمانہ تک جماعت احمدیہ کا ترقی نہ کرنا حیرت کا موجب نہیں ۶۳ سال جماعت پر گزر چکے ہیں اگر ۶۳ سال میں جماعت غالب نہیں آئی تو یہ خوشی کی بات ہے عیسائیوں پر پونے تین سو سال میں جوانی آئی اور آج تک وہ پھیلتے چلے جا رہے ہیں۔ایک لیے عرصہ تک انہیں مصاب جھیلنے پڑے تکالیف برداشت کرنی پڑیں اور وہ غوروخت کر کرتے رہے جس کی وجہ سے انہیں ہر کام کے متعلق غور کرنے اور منکر کرنے کی عادت پڑ گئی اور اس کے نتیجہ میں انہوں نے بعد میں شاندار ترقی حاصل کی۔پس ہماری جماعت پر جوانی کا وقت آنے میں جو دیر لگی ہے اس کی وجہ سے ہمیں گھیرانا نہیں چاہیئے جوانی دیر سے آنے کے یہ معنے ہیں کہ جماعت کی عمر بھی لمبی ہو گی اور احمدیت دیر تک قائم رہے گی۔یہ چیزیں تمہاری گھبراہٹ کا موجب نہیں ہونی چاہئیں بلکہ تمہیں خوش ہونا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ جماعت کو لمبی عمر دینا چاہتا ہے، تم سوچنے اور شکر کرنے کی عادت ڈالو۔تمہاری طاقت، تمہارا ایمان، تمہاری قوت مقابلہ اور عقل سوچنے سے بڑھے گی یا لے صبر مسلوق کی پرزورتحریک انیوں اور رانوں کے ان رات ایام میں جب مخالف مظاهر وسلواۃ کا سارا زور غیر اسلامی بلکہ غیر اخلاقی حر وانی کے استعمال پر صرف ه خطبه جمعه فرموده ۲۷ جون ۱۹۵۲ء بمقام ربوه مطبوعه روزنامه الفضل لاہور ۱۲ جولائی ۶۱۹۵۲ * له احراری آرگن " آزاد لکھتا ہے :- دیہ بھی کہا جاتا ہے کہ مجلس احرار کے خطیبوں میں جذباتیت، بھیڑ بازی اور اشتعال انگیزی کا عنصر غالب ہے یہ ٹھیک ہے مگر یہ بھی تو دیکھئے کہ ہماری قوم کی ذہنیت اور مذاق کیا ہے ؟۔۔آپ ذرا حقیقت پسند سنجیدہ اور متین بن جائیں پھر آپ مسلمانوں میں مقبول ہو جائیں اور کوئی تعمیری اور اصلاحی کام کرلیں تو ہمارا ذمہ یہی تو ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے کہ ہم حقائق و واقعات سے کوئی تعلق نہیں رکھتے آپ بڑے بڑے دیانتدار، با اخلاق اور سنجیدہ متین پہاڑوں کو کھو دیں تو اشتعال کا رباقی اگلے صفحہ پر