تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 196
١٩٣ ہو رہا تھا ، حضرت مصلح موعود اپنے مستقل طریق کے مطابق قدم قدم پر خدا کی جماعت کو صبر و صلواۃ کی تاکید فرما رہے تھے۔چنانچہ حضور نے ہم روفا ۱۳۳۱ امش / جولائی ۱۹۵۲ء کے خطبہ میں ارشاد فرمایا :- قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دعوئی تو یہ کریں کہ ہم ایمان لائے ہیں لیکن ان کو آزمائشوں اور بتلاؤں کی بھٹی میں نہ ڈالا جائے۔احب الناس ان يتركوا أن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ ہے کیا یہ لوگ ہم بھی کر سکتے ہیں۔کیا مسلمان اس قسم کے خیالات میں مبتلا ہیں کہ انہیں کونسی چھوڑ دیا جائے گا ؟ انہیں آزمائشوں اور ابتلاؤں کی بھٹی میں نہ ڈالا جائے گا۔انہیں تکالیف اور مصائب کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔انہیں ٹھوکریں نہیں لگیں گی حالانکہ وہ دعوی یہ کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے۔یہ قاعدہ کلیہ ہے جو شخص ایمان کا دعوئی کرتا ہے اسے ابتلاؤں اور آزمائشوں کی بھیٹی میں ضرور ڈالا جاتا ہے۔اگر یہ قاعدہ کلیہ نہ ہوتا تواللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ابتدائے اسلام میں یہ نہ فرما تا کہ تم کس طرح یہ خیال کرتے ہو کہ تم دعوئی تو یہ کرو کہ ہم ایمان لائے لیکن تمہیں ابتلاؤں اور آزمائشوں میں نہ ڈالا جائے۔بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ :۔چوہا نکلے گا۔الیکشن بازی میں تو دیندار اور بے دین سب کے سب اشتعال انگیزی ہی سے کام لیتے ہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ اس سے کوئی کم کام لیتا ہے اور کوئی زیادہ ہمارے احراری بزرگ اس میں سب سے آگے ہیں " اخبار آزاد ۲۷ ستمبر ۱۹۵۸ء مناتا) جہاں تک کذب بیانی کا تعلق ہے جناب مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کا یہ فتولی ہے:۔* احیائے حق کے واسطے کذب درست ہے مگر تا امکان تعریف سے کام لیوے۔اگر نا چار ہو تو کذب صریح بولے یا رفتاوی رشید یہ خدام مولفہ مولوی رشید احمد صاحب گنکور ہیں۔ناشران محمد سعید اینڈ منتر قرآن محل مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی) اس دور میں جناب گنگوہی صاحب کے اس فتوئی پر ان کے معتقدین اور مریدان با صفا نے جس شدت ، کثرت اور وسعت سے عمل کیا ہے اس کی نظیر گذشتہ زمانوں میں بہت کم ملتی ہے جو العنكبوت :