تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 175 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 175

۱۷۲ میں چوہدری صاحب کی اسلامی خدمات کو سراہتے ہوئے یہ نوٹ لکھا: "} تبلیغ غیروں کی مجلس میں سر ظفر اللہ خان وزیر خارجہ پاکستان کا بیان ۲ جون کی پولیس کا نفرنس کراچی میں میرے اُوپر بارہا یہ اعتراض ہو چکا ہے کہ میں ملکی اور بین الملکی معاملات میں قرآن اور ئے حدیث کو پیش کیوں کر دیتا ہوں حالانکہ اگر ملکی اور بین الملکی مسائل کو دینی سند مل جائے تو بہتر ہی ہوا کرے۔چنانچہ اس وقت بھی اس اعتراض کا مزید خطرہ لے کر میں کہتا ہوں کہ ہمیں تو تعلیم اس کی ملی ہے کہ تعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الاثم والعدوان اور ہمارے پیغمبر کاقول ہے جس کی پیرس میں جنرل اسمبلی میں پچھلے نومبر کو پیشش بھی کر چکا ہوں کہ انصر اخاك ظالما او مظلومات المزيه کاش یہی کشیدہ عرب اور مصر اور عراق اور ایران اور شرق پر دن اور شام اور افغانستان کے نمائندوں کا بھی ہوتا۔کاش ان میں بھی جرات غیروں کے سامنے اپنے ہاں کی چیزوں کے پیش کرنے کی ہوتی! اور ایک تو نمائندہ پاکستان اپنے منفرد ہونے کی بناء پر غیروں کی مجلس میں پیشک عجیب سا معلوم ہوتا ہوگا اور اسی لئے اس کا استحقاق اجر بھی کہیں بڑھ رہا ہو گا، غیروں کی مجلس میں بے باکانہ تبلیغ دین کی یہ سنت قائم کی ہوئی مولنا محمد علی کی ہے۔اور ایک بار مرحوم وزیر اعظم پاکستان نے بھی اس کا حق امریکہ میں ادا کیا تھا اور اب تو اونچے حلقوں میں یہ وزیر خارجہ پاکستان کے حکم سے بنی قائم ہے ا سکے ۳ - رساله مولوی، دہلی (بابت ماہ جولائی ۱۹۵۳ء) نے اس واقعہ پر ایک درد انگیز مقالہ سپر واشاعت کیا جس کا معنی یہ ہے:۔۔آپ اپنی تاریخ پر چاہے بہت فخر کیجیے۔آپ سلف صالحین کی حیات طیبہ پڑھ کر کتنا ہی رقص کیلئے مگر اس کی حیثیت پدرم سلطان بود سے ہر گز زیادہ نہ ہوگی۔اسی اپنی گشندہ امتاع کو بروئے کار کانے اور اپنی بے چارگی کے بند بھی توڑنے کے لئے تو اسے راہبران دی متین اور اسے مجاہدین اسلام مانده ام : سے بخاری کتاب المظالم : " صدق جدید لکھنو ۲ چون ۶۱۹۵۲ بحوالہ روزنامہ الفضل لاہور مورخہ ۲۹ جون ۱۹۵۲ء هش :