تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 174 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 174

141 قلیت قرار دیئے بجانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اس سے بحث نہیں کہ قادیانی جماعت کے مذہبی عقائد کیا ہیں ؟ لیکن جب یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں ہر فرقہ کو یکساں مذہبی آزادی حاصل ہے تو پھر قادیانیوں پر اس قدر تشدد کیوں کیا جا رہا ہے ؟ خاص کر اچی میں پچھلے ہفتہ جو افسوسناک واقعہ پیش آیا اور جس کے نتیجہ میں ایک سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے اور بھا یہ جا آتشزدگی اور لوٹ مار کے واقعات بھی ہوئے۔کیا یہ پاکستانیوں کے اس دعوئی کی قطعی تردید نہیں ہے کہ وہاں ہر ایک کو نہ ہی آزادی حاصل ہے؟ دیکھنا ہے کہ قادیانیوں کے بعد اور کسی فرقہ پر پاکستان کے مذہبی دیوانوں کا نزلہ گرتا ہے ؟" لے اخبار حقیقت کے اسی پر چھہ میں درج ذیل خبر بھی شائع ہوئی :۔" کراچی میں قادیانی ابھی تک اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلے آگ لگانے کی اکا دکا وارداتیں۔پولیس کا وسیع انتظام کراچی ۲۲ میٹی۔قادیانیوں میں ابھی تک خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے۔وہ ابھی تک اپنے گھروں سے باہر نکلتے گھبراتے ہیں۔ان کا کاروبار ابھی تک بند ہے۔ان کی حفاظت کے لیے انکے مکانوں پر پولیس بٹھا دی گئی ہے پھر بھی کہیں کہیں آگ لگانے کی اکا ؤ گا واردات ہو رہی ہے۔جہانگیر پارک میں بلوہ کے سلسلہ میں جو تین سو اشخاص گرفتار کئے گئے تھے ان میں سے پولیس نے صرف ساٹھ اشخاص کو حراست میں رکھا ہے اور باقی کو چھوڑ دیا ہے۔کل پولیس افسروں کی ایک کا نفرنس منعقد ہوئی جس میں تمام صورت حالات پر غور کیا گیا۔ہنڈ روڈ پر احمدیہ ایسوسی ایشن کی لائبریری با لکل بند پڑی ہے اس کے باہر پولیس کا پہرہ ہے۔کراچی کے کمشنر نے ایک بیان میں کہا کہ قادیانیوں اور غیر قادیانیوں کے درمیان سنیچر اور اتوار کو جو تصادم ہوا ہے اس کے پس پشت ایک آرگنائزیشن کام کر رہی ہے۔آپ نے کہا کہ حکومت کو اس بلوہ کا پہلے ہی علم تھا۔حکام کو نا معلوم اشخاص کی طرف سے پہلے ہی مطلع کر دیا گیا تھا کہ جلسوں میں جھگڑا کیا جائے گا ہے انه مولانا عبد الماجد دریا آبادی نے اپنے ہفتہ وار اخبار صدق تجدید لکھنو (۲ جون ۹۵۲ ه روزنامه " حقیقت" لکھنؤ ۳۳ مئی ۱۹۵۲ء ص : که روزنامه حقیقت "الکھنو ۲۳ مئی ۱۹۵۲ء ص 4