تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 176 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 176

۱۷۳ آپ نے تقسیم کی مانگ کی تھی اور سدا نئے اگر یہ اس کا فضل تھا، تو آپ کو اس نے نواز دیا۔آج پورے پانچ سال ہو گئے کہ آپ آزاد ہیں۔اپنے حاضر اور استقبال کے پورے مالک ہیں۔آپ کے معاملات میں کوئی مداخلت کرنے والا بھی نہیں ہے۔اللہ کے واسطے بتائیے کہ آپ نے ہم پسماندہ بھارت کے مسلمانوں کی نسبت سے زیادہ کونسا قدم اسلام کی طرف اٹھایا اور وہ کونسی بات کی جس سے آپ کے دعوی کی ذراسی بھی سچائی دنیا پر روشن ہوئی۔الاه ثم اه :- دہلی۔یورپی سی پی ہیملٹی۔مدر اس کے مسلمانوں نے آپ کی ہمنوائی میں پورا پور حصہ۔یہ جان کر یہ بوجھ کر کہ اس سے ہمیں مادی نفع تو در کنار ہماری غلامی کے طوق اور بوجھل ہوں گے ہماری بیریاں اب سے ہزار درجہ گراں بارہوں گی ہماری دنیا وی عورتیں خاک میں ملیں گی ہمارے اعزہ ہم سے جدا ہوں گے ہماری ٹھیں ہی تازیانوں سے زخمی نہ ہوں گی ہم پر پیٹ کی ماریں بھی پڑیں گی۔ہم رکھوال اکثریت کی فیاضی سے بھی پوری طرح واقف تھے اور ان کی تنگ نظریاں بھی ہماری آنکھوں سے اوجھل نہ تھیں۔اور وہ مصیبت جو ہم پر آئی اور آرہی ہے اور شاید ابھی پوری نہ ہوئی ہو وہ ہماری توقع سے چاہے شدید ہو لیکن غیر متوقع ہر گز نہ تھی۔پھر اسے سرفروشان اسلام ! یہ بربادی ہم نے کیوں قبول کی ہم پاگل تو نہ تھے صرف ایک لگن تھی اور وہ یہ کہ اس آزادی کے بعد یہ مجاہدین اور شیدایان اسلام قرونِ اولیٰ کا اسلام زندہ کریں گے۔دنیا میں اسلام کا بول بالا ہو گا۔ہدایت کے چشمے پھوٹ نکلیں گے۔رشد کی چمکا ہٹ غنی کی ظلمت کو نابود کر دے گی۔یہ ہمارا اسلامی وطن حرم محترم ہو گا۔یہاں انسانی خون ہی نہیں اسکے پسینہ کا ہر قطرہ محترم ہوگا اور دنیا کو یہ بتلا دینے کے پورے اسباب وسائل ہمارے ہاتھ میں ہونگے کہ امن ایٹم ہوں۔جراثیم ہوں۔اہر کی گیسوں سے قائم نہیں ہوسکتا کہ یہ سب شیطانی ہتھیار ہیں رحمانی ہتھیار تو ایثار ہے۔انسانی ہمدردی ہے۔انسانی برابری ہے۔ادائے حقوق العباد ہے۔اور دیکھو کہ ہم دنیا کی ہر مادی اعتباع سے تہی دست ہیں لیکن پھر بھی پوری دنیا سے مالدار ہیں کہ خدا کی تائید ہے۔اُس کا فضل ہمارے ساتھ ہے۔وکفی باللہ وکیلا۔یہ تھا وہ خواب جس پر ہم نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔اسے اونچے ایوانوں میں رہنے والے یہ اہنمائی اسے صوفہ اور قالینوں کو زینت دینے والے مجاہدو! اور اسے کفن بر دوش مسلمانو!