تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 167
۱۶۴ اور نماز روزہ ، زکوۃ، حج اور تمام احکام فقہی میں سواد اعظم سے منقشابہ ہے اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے وہ کفار سے زیادہ کیوں کر تیرا ہو سکتا ہے اور ملت سے خارج کیونکر قرار دیا جا سکتا ہے بڑے بڑے عظیم الشان آئمہ اسلام نے تو نہایت شدید اختلافات کی حالت میں بھی دوسروں سے انتہائی رواداری کا ثبوت دیا ہے۔اور خود امام ابو حنیفہ کا یہ ارشاد مشہور ہے کہ جس شخص میں ننانوے وجوہ کفر کی اور ایک وجہ اسلام کی بھی موجود ہو اس کو کافر کہنے سے پر ہیز کرنا چاہیے۔خیر تھے مذہبی مسائل کی پیچیپ د گیوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں اور نہ آج کل ان بھول بھلیوں میں اپنے آپ کو کھو دینے کا زمانہ ہے یکیں تو یہ کہتا ہوں کہ پاکستان میں ملتِ اسلامیہ کے اندر فرقہ پرستی کی آگ کو ہوا دینا ملت اور بہبود وطن کے خلاف ہو گا۔جب پاکستان کے ہندوؤں ، اچھوتوں عیسائیوں پارسیوں کے شہری حقوق مسلمانوں کے برابر ہیں اور ان کے جان و مال و آبرو کی حفاظت اور تحریر و تقریر و اجتماع کی آزادی کی ضامن و کفیل خود حکومت پاکستان ہے البشر طیکہ وہ قانون ملکی کی خلاف ورزی نہ کریں تو پر اللہ اور رسول کا کلمہ پڑھنے والی جماعتوں کو وہ تمام حقوق اور آزادیاں کیوں حاصل نہیں۔عیسائیوں کی تو تبلیغی جماعتیں مثلا میشن اسکول۔وائی۔ایم سی۔اسے سالویشن آرمی و سکتی فوج تک پاکستان میں اپنا کام آزادانہ طور پر کر رہی ہیں اور ان سے کوئی معترض نہیں ہوتا پھر مرزائیوں سے معترض کے کیا معنی؟ بعض متعصب مولوی اور ان کے جوشیلے پیرو یہ کہنے کی تو جرات نہیں کر سکتے کہ فلاں فرقے کے تمام مردوں، عورتوں اور بچوں کو پاکستان بدر کر دیا جائے اور اگر وہ ایسا مطالبہ بھی کریں تو اہل عقل میں سے کون ہے جو ان کا ہم زبان ہو سکے۔پھر جب تمام حنفیوں، وہابیوں ، بریلویوں، شیعوں ، مرزائیوں ، ہندوؤں ، عیسائیوں اور اچھوتوں کو اسی ملک میں رہتا ہے اور یہیں مرنا گڑنا ہے اور پاکستان کے شہری ہونے کی حیثیت سے ان سب کے حقوق مساوی ہیں تو سمجھے میں نہیں آتا کہ ان قوموں اور فرقوں کی آپس میں ہنگامہ آرائی کر نا کسی اعتبار سے پاکستان کے لئے مفید ہے۔ہمارے بعض علماء گھر اس امر کا اندازہ نہیں کہ کراچی میں مرزائیوں کے جیسے پر ہزاروں مسلمانوں کی یورش سے ہم دنیا بھر کے ممالک میں بعد دریہ بدنام ہوئے ہیں اور حریت رائے اور جمہوریت