تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 168
۱۶۵ کے بلند بانگ دعووں کی کس طرح قلعی کھلی ہے۔بخدا کے لئے اپنے وطن کو اقوام عالم میں بدنام و رسوا نہ کرو تم اپنے عقائد پر قائم رہو اور دوسروں کو اپنے عقائد پر قائم رہنے کا حق دو عیسی بدین خود موسی بدین خود بعض علماء کا صرف یہ کہ دنیا کافی نہیں ہے، ہجوم نے جو کچھ کیا برا کیا ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا یا علماء اسلامی شائستگی اور اخلاق کے امین ہیں۔انہیں چاہیئے کہ اختلاف عقائد کو الگ رکھ کر عامتہ اسلمین کو اس طرح احتجاج کی بنا پر سختی سے ڈانٹیں اور ملک بھر کی مسجدوں سے یہ آواز بلند کریں کہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہونا چاہیئے کیونکہ یہ احکام اسلام، وقارِ اسلام اور اخلاقی اسلام کے منافی ہے اور اس سے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی ہوتی ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ مولوی کبھی ایسا نہیں کرے گا کیونکہ ہر فتنہ فساد کا ہنگامہ اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور وہ خلوت میں اسی پر بغلیں بجا رہا ہے۔قانون امن کی طاقتوں کو بلا خون لومنہ لائمہ قانون و انتظام کو تباہ کرنے والوں کے خلاف شدید کارروائی کرنی چاہئیے اور یقین رکھنا چاہیے کہ ہر صحیح الدماغ اور ذمہ دار پاکستانی اس اقدام میں ان کا حامی ہوگا۔حکومت کے صیغہ داخلہ کو مذہبی فرقہ آرائی کے ذمہ داروں اور اشتعال انگیز واعظوں اؤ مقرروں پر نہایت کڑی نظر رکھنی چاہیئے خواہ وہ کسی فرقہ سے بھی تعلق رکھتے ہوں۔احراری ہوں یا مرزائی جو بھی فتنہ انگیزی کے درپے ہو اس کے ساتھ قانونی سلوک ہونا چاہئیے " ۱۴۔ہفت روزہ بلیاک کی ٹیکم جون ۱۹۵۲ء کی اشاعت میں حسب ذیل ٹوٹ ها: " قارئین کو ریڈیو پاکستان اور روزانہ اخبارات کے ذریعہ سے معلوم ہو چکا ہو گا کہ ہے۔۱۸ مئی ۱۹۵۲ء کو کراچی کے جہانگیر پارک کے اندر اسلام ایک زندہ مذہب ہے، کہنے والے کے خلاف مردہ باد کے نعرے لگائے گئے جلسہ میں پتھراؤ کیا گیا جس سے حالات کافی مخدوش ہو گئے۔ہمارے ایک احراری بزرگ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہمارا لب و لہجہ احرار کے بارے میں نہایت تند و تلخ ہوتا ہے اس لئے ہم ان کے عہد بات کا خیال رکھتے ہوئے نہایت نرم الفاظ میں کچھ