تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 166
دقت کریں گے۔ساتھ ہی ہم کراچی کے حکام کو بھی مشورہ دیں گئے کہ وہ اس مہنگامہ کی نہایت احتیاط سے تحقیقات کریں اور طرفین کے رویہ کا جائزہ لیں لے امروز نامہ آفاق دیکم جون ۱۹۵۲ء) نے لکھا : - احمدیوں کے خلاف عام مسلمانوں کو جو شکایات ہیں ان میں سب سے بڑی شکایت تو یہی ہے کہ وہ حضرت سرور کائنات کے بعد اجرائے نبوت کے قائل ہیں بحالانکہ خاتم النبیین کا مطلب ۴۰۰ سال سے یہی سمجھا جا رہا ہے کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔اس کے علاوہ احمدیوں کا یہ شیوہ بھی مسلمانوں کو بہت ناگوار ہے کہ وہ اپنے لوگوں کے سوا کسی دوسر نے سلمان کے لئے دعائے مغفرت نہیں کرتے نہ کسی غیر احمدی کے پیچھے نماز ادا کرنا جائز سمجھتے ہیں لیکن اگر جذبات کی ہنگامہ آرائی سے الگ ہو کر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے تو دوسرے مسلمان فرقوں کے اختلافات بھی کچھ کم تکلیف دہ نہیں ہیں شیعہ حضرات صدیق اکبر، فاروق اعظم ، عثمان غنی کو غاصب و ظالم کمر کر نا گفتہ بہ کلمات سے یاد کرتے ہیں میٹیوں کے پیچھے ان کی نماز نہیں ہوتی۔گو وہ کسی وقت منافقت سے شامل صلوۃ ہو بھی بھاویں یا کسی شستی کی نماز جنازہ بھی پڑھ لیں لیکن ان کے عقائد کا یہ تقاضا نہیں ہے۔یہ میلوی عقید ہے کے لوگ اہل حدیث کے نزدیک پرلے درجے کے مشرک ہیں جو انسانوں کی روحوں اور مردوں کی قبروں کو قبیلہ مُراد مانتے ہیں اور بے شمار ایسی رسوم کے پابند ہیں جن کی اصل دین میں موجود نہیں ہے۔دنیائے اسلام میں بعض ایسے فرقے بھی مسلم معاشرے کا ہجر ولا ینفک سمجھے جاتے ہیں جن کے عقائد سواد اعظم کے سخت خلاف ہیں۔مثلاً آغا خانی ، بہائی اور دروزی لیکن ہندوستان، ایران ، پاکستان ، شام وغیرہ میں وہ بات اسلامی ہی سمجھے جاتے ہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ احمدیوں کے بارے میں مسلمان مہر اور رواداری سے کام نہ لیں اور لَكُمْ دِينَكُمْ وَلي دین کہہ کر ان سے تعرض نہ کریں۔اگر مذہبی فرقوں کے درمیان جنگ و شقاق کا ہنگامہ بھاری رہا تو ظاہر ہے کہ اس سے کلمہ گولیوں کے اتحاد کی بنیاد کمزور ہو جائے گی لیکن ان جوشیلے حضرات سے متفق نہیں ہوں جو یہ کہنے کے عادی ہیں کہ احمدی ہندوؤں سکھوں ، عیسائیوں ، یہودیوں سے بھی زیادہ بڑے ہیں۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جو شخص توحید الہی ، نبوت محمدی ، حشر نشر، سرا، جزاء قرآن اور کعبہ کا قائل ہے اداریہ روزنامه امروز لاہور مورخہ ۲۲ مئی ۶۱۹۵۲ :