تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 165
۱۲۲ قطع نظر اس سے کہ اس اشتعال کے اسباب کیا تھے ؟ کسی شہری کو اس کا حق نہیں پہنچتا ہے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لئے اس لئے اس کی جس قدر ندمت کی بجائے کم ہے کیونکہ اگر یہ شخص ایسی طرح عمل کرتا رہے تو نظم و نسق تباہ ہو جائے گا اور لاقانونیت اور مزاج کی کیفیت پیدا ہو جائے گی۔رہا یہ سوال کہ یہ واقعہ پیش ہی کیوں آیا تو اس کی ظاہری وجہ یہ علوم ہوتی ہے جیسا کہ کراچی کے اخبارات میں مذکور ہے کہ جلسہ کی اجازت اس بناء پر دی گئی تھی کہ اس میں اختلافی امور پر کچھ نہ کہا جائے گا لیکن اس کے باوجود مقررین نے اختلافی مسائل پر تقریریں کیں مجمع نے احتجاج کیا مگر انہوں نے اس کے جذبا و احساسات کا احترام نہیں کیا۔اگر یہ واقعات میے ہیں تو ہمیں یہ کہتے ہیں ذرا بھی قائل نہیں ک منتظمین اور مقررین علیہ نے انتہائی غیر ذمہ داری اور فرض ناشناسی کا ثبوت دیا۔اگر وہ حدود سے تجاوز نہ کرتے تو غالباً یہ افسوسناک واقعہ ظہور پذیر نہ ہوتا جس طرح مشتعل ہجوم کو قانون شکنی کا حتی نہیں تھا اسی طرح منتظمین و مقررین بھی اس کے مجاز نہیں تھے کہ وہ ان شرائط سے روگردانی کریں جو اس جلسے کے انعقاد کے لئے لازمی قرار دی جا چکی تھیں لیکن اس سلسلے میں شر خص یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اگر منتظمین اور مقررین کی طرف سے عہد شکنی کا مظاہرہ ہوا تھا۔حاضرین نے اعتراض کیا تھا اور مقررین نے اس کی پروا نہیں کی تھی تو نظم ونسق کے ذمہ دار خاموش کیوں رہے۔اس واقعہ کا ایک پہلو جو ان سب سے زیادہ اہم اور نتیجہ خیز ہے وہ یہ ہے کہ اگر اس قسم کی آویزشان کی حوصلہ افزائی ہوئی تو اس سے قوم کی وحدت پارہ پارہ ہو جائے گی جس سے ملک دشمن عناصر خوب فائدہ اُٹھائیں گے اس لئے ہمارے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم اس مسئلہ پر ٹھنڈے دل سے غور کریں۔پاکستان میں مختلف مذاہب کے پیرو اور مختلف عقائد رکھنے والے لوگ بستے ہیں انہیں اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ پوری آزادی کے ساتھ اپنے مذہب اور عقیدے پر چلیں لیکن کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے فرقے کی دل آزادی پر اُتر آئے اور دوسرے فرقہ کے جذبات و احساسات کا خیال نہ رکھے کیونکہ اگر اس کی کھلی چھٹی دے دی بھائے تو پھر ملک میں ہنگاموں کالا متناہی سلسلہ شروع ہو جائے گا اور بعدال و قتال کا بازار ہمیشہ گرم رہے گا جو ملک کے مستقبیل کے لئے کسی طرح بھی مفید نہیں۔اس لئے ہمیں یقین ہے کہ ملک کے تمام ذمہ دار سنجیدہ اور وطن دوست حضرات اس واقعہ کی