تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 164 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 164

۱۶۱ اموش نے قائد اعظم کے تحریری پروگرام کا تماشہ دیکھ رہی ہے ہمارے خیال میں اس موقعہ پر حکومت ناقابل تلافی سیاسی غلطیوں سے کام لے رہی ہے۔یہی نیا قائد اعظم کل کہے گا جو اسلامی آئی ہم بچاہتے ہیں پاکستان کے موجودہ حکمران صحیح اسلامی آئین نہیں بنا سکے۔لہذا جس حکومت کا آئین اسلامی نہ ہو وہ مسلمان نہیں کہلا سکتی ہیں قائد اعظم ہوں“ کا خطاب حاصل کرنے کے باعث احمد اور مذہبی جھگڑوں کے ذریعہ تخریب پاکستان کے مواقع پیدا کر رہی ہے اور وہ ایک مذہبی جماعت کا لبادہ پہین کر اپنے لئے ایک وسیع سیاسی میدان پیدا کرنا چاہتی ہے۔پھر ہماری حکومت مذہبی رو میں بہتے ہوئے مسلمانوں کے خیالات و عقائد کا جو احرار اس وقت ان میں پیدا کر رہے ہیں مقابلہ نہ کر سکے گی۔دعام ہے کہ اللہ تعالٰی حکومت اور مسلمانوں کو اسلامی اور اخلاقی شعور پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے او چور دروازوں سے داخل ہونے کی بجائے احرار کے لئے بھی سیاسی اقتدار کی کوئی راہ نکالے تا کہ پاکستان تخریبی سرگرمیوں کا اڈہ بننے سے بچے سکے " ۱۲- اخبار امروز ( ۲۲ مئی ۱۹۵۲ء) نے کراچی کا ہنگامہ کے زیر عنوان حسب ذیل لاہور شذرہ سپرد قلم کیا :- جہانگیر پارک کراچی میں جماعت احمدیہ کے جلسہ عام میں جو ہنگامہ ہوا وہ ہر اعتبار سے افرینا کی ہے اور ایک آزاد و مہذب قوم کے شایان شان نہیں۔زمہ دار قوموں کے افراد انتہائی اشتعال کے عالم میں بھی اپنے فرائض کا خیال رکھتے ہیں اور تہذیب و تمدن کی حدود سے آگے نہیں بڑھتے کیونکہ جبر و تشدد کے ذریعہ نہ تو کوئی مسئلہ حل ہو سکتا ہے اور نہ عقائد ہی میں کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے تاہم یہ بات ضرور قابل غور ہے کہ اس فوری اشتعال کے اسباب و علل کیا ہیں کیونکہ جب تک ہم کو علت غائی کا علم نہ ہو ہم اس حادثے کے متعلق صحیح رائے قائم نہیں کر سکتے۔ہجوم کے طرز عمل سے یہ حقیقت بالکل آشکارا ہو جاتی ہے کہ وہ انتہائی مشتعل تھا اور اس قدر بے قابو تھا کہ پولیس کے لاٹھی چارج کے باوجود اس نے جلسہ کو درہم برہم کرنے کی ہم کوشش کی۔قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا خشت باری ہوئی۔لوگوں کے چوٹیں آئیں۔شامیا نے پھٹے۔کارون لاؤڈ سپیکروں اور روشنیوں کو نقصان پہنچا۔گرفتاریاں ہوئیں منتظمین کا باہر نکلنا مشکل تھا۔مرض ہے کہ سوا گیارہ بجے رات تک میدان کار زار کا نقشہ جمارہا۔