تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 149
۱۴۶ تاریخ سے گھر سے مطالعہ اور دوربینی کی خُدا داد صلاحیت نے ان کے نقطۂ نظر میں ایسا توازن پیدا کر دیا ہے جو بلاشبہ کمال کی حد تک پہنچا ہوا ہے۔ایک ایسا شخص جس کی باطنی تربیت کا معیار ہے بعد بلند ہو جس میں عجز و انکسار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہو جس کی حب الوطنی اور میں کا جذیہ وفاداری حد درجہ پختہ اور تحکم ہو اور جو کمال خاموشی سے تعمیر ملت میں ہمہ تن مصروف ہو ایسے شخص کے لئے دل میں محبت و اخلاص اور احسان مندی کے گہرے جذبات کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔اس پر برطانیہ کا پٹھوں ہونے کا الزام لگا نا حق و عادات کا خون نہیں تو اور کیا ہے۔( اس کے سوا کیا کہا جائے کہ اس الزام تراشی کا کوئی فاسد اور بد نما داغ ہی مرتکب ہو سکتا ہے۔اگر ایسا واجب التعظیم شخص بھی حاسدوں کے جھوٹے پراپیگنڈے کی نہ دو سے محفوظ نہیں رہ سکتا تو سمجھ لینا چاہئیے کہ یہ پر ہوئی صورت حال اس دور میں انسانی سیہ کاری کی انتہائی کست حالت پر دلالت کرتی ہے ۶ - اخبار نئی روشنی نے اپنی ۲۵ مئی ۱۹۵۲ء کی اشاعت میں لکھا:۔ے ارمٹی اور ارمٹی کو کراچی میں فرقہ احمدی کے جلسے منعقد ہوئے۔ان جلسوں میں جونا خوشگوار واقعات پیش آئے اس قدر شرمناک ہیں کہ کوئی شخص تردید کی جرات نہیں کر سکتا۔فرقہ احمد یہ آج سے نہیں برسوں سے اس برصغیر ہند و پاکستان میں موجود ہے اور اس فرقہ کے عالم وجو وہیں آنے سے لے کر آج تک سینکڑوی مناظرے احمد یولی اور عام مسلمانوں کے درمیان ہوئے۔اختلافات پیدا ہوئے۔سوال و جواب کے سلسلے جاری ہوئے لیکن کوئی غیر سنجیدہ اور تکلیف دہ قسم کا حادثہ پیش نہیں آیا بلکہ ہر موقعہ پر ضبط و نظم کا خیال رکھا گیا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔احمدیوں کے متذکرہ جلسہ سے کچھ ہی دن قبل رام باغ میں ختم نبوت کا نفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں فرقہ احمدیہ کے خلاف انتہائی زہر افشانی کی گئی تھی مگر ان جلسوں میں کسی قسم کا کوئی ندام نہیں ہوا حالانکہ اگر وہ چاہتے تو جلسہ کا نظم و نسق بر قرار رکھنا مشکل ہو جاتا جس کے معنی یہ ہوئے کہ احمدیوں نے انتہائی صبر و سکون کے ساتھ جلسہ کی کارروائیوں کو جاری رہنے دیا۔کوشش یہ کی کہ اُن کا کوئی فرد اس میں شریک نہ ہو اور اگر شریک ہو بھی تو نہایت صبر و سکوں کے ساتھ جلسہ