تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 150
۱۴۷ کی کارروائی کوشنے۔اس کے بڑٹیکس احمدیوں کے جلسہ میں چند بیشتر پسند عناصر نے مجمع کو اکٹھا کر کے ایسے غیر قانونی ذرائع استعمال کرنے کی کوشیش کی جو انتہائی شرمناک متصور ہوتے ہیں۔ہم ان حضرات سے براہ راست مخاطب ہو کو یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر ان میں مخالفانہ نظریات کو سننے کی جرات نہیں تھی تو وہ جلسہ گاہ میں شرکت کی غرض سے گئے کیوں ؟ اور یہ کہ کیا اختلافات کو ٹانے اور اپنے نظریات کو سمجھانے کا یہی طریقہ کا رہے ؟ کہ شہر میں بد امنی پھیلا دی بجائے اور دکانوں اور ہوٹلوں کو آگ لگا دی بجائے ؟ اس ہنگامہ میں شیزان ریسٹورنٹ، احمدیہ فرنیچر مارٹ اور شاہنواز لمیٹڈ کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔یہ سمجھ کر کہ یہ سارے ادارے احمدیوں کی ملکیت ہیں ان اداروں کو آگ لگا کر عام مسلمانوں نے جس غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے اس کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔اس قسم کی غیر فرقہ وارانہ حرکت پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کی گئی ہے اور ہم وثوق کے مات یہ نہیں کر سکتے کہ اس میں کسی کا ہاتھ ہے یا عوام نے خود ایسا کیا ہے لیکن صرف اس قدر کہا جا سکتا ہے کہ جو کچھ ہوا نہایت غیر ذمہ دارانہ ہے ہمیں عوام کے جذبات کا احترام ہے لیکن ہم کسی ایسی حرکت کی اجازت نہیں دے سکتے جس سے پاکستان کا من خطر سے میں پڑے اور نہ ہی ہمیں یہ توقع رکھنا چاہیے کہ کوئی پاکستانی پاکستان میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔اس نا خوشگوار واقعہ سے کوئی اور نتیجہ برآمد ہو یا نہ ہو۔یہ تلخ حقیقت ضرور سامنے آتی ہے کہ کراچی میں ایک بھی ایسی شخصیت نہیں ہے جو عوام کو ایسے موقعوں پر صحیح راہ دکھا سکے۔کراچی میں عوام کے محبوب قائدین کا کال شہید ملت کی یاد کو اور تازہ کر رہا ہے ہمیں یقین ہے کہ آج قائد ملت لیاقت علی خاں زندہ ہوتے تو پولیس کو اشک آور گئیں اور لاٹھی چارج کرنے کی ضرورت نہ پڑتی ان کا صرف ایک جملہ عوام کے مشتعل جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کافی ہوتا بلکہ ہم اس قدر کہنے کے لئے تیار ہیں کہ ان کی موجودگی میں ایسا واقعہ سرے سے رونما ہی نہ ہو سکتا تھا لیکن بدقسمتی سے وہ ہمارے درمیان سے دانستہ طور پر ہٹا دئے گئے جن کے بعد ایسا واقعہ پیش آگیا اور وہ بھی پاکستان کے دارالخلافہ میں جس کے متعلق یہ اندیشہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ آگ کہیں دوسرے شہروں میں نہ پہنچ جائے اس لئے کہ جو چیز مرکز سے شروع ہوتی ہے وہ دوسرے شہروں میں ضرور پھلنے پھولنے