تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 148 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 148

۱۴۵ اور نے پاکی سے اظہار کر سکتے ہیں اور ایسا کرنے میں انہیں تشدد آمیز دھمکیوں اور مظاہروں کے خلات قانون کی پوری پوری حمایت حاصل ہوگی جمهوری خیالات کی صحت مند نشو و نما کے لئے ضروری ہے که قانونا شخصی آزادی کی محدود تعین کر دی جائیں اور باقاعدہ ان کی وضاحت کر کے ہر قسم کا اور ہام دور کر دیا جائے۔شخصی آزادی کا یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جا سکتا کہ انسان اپنے نظریات اور رجحانات کو دوسروں پر پانچر ٹھونسنے کی کوشش کرے کسی کو بدگوئی اور تذلیل و تحقیر کی اجازت دینا جمہوری آزادی کے یکسر منافی ہے۔اس سے جہاں دوسروں کی آزادی میں رخنہ پڑتا ہے وہاں جماعتی تحفظ اور مفاد عامہ کو بھی سخت نقصان پہنچتا ہے۔مظاہرین نے ایک ایسی ہستی کو ہرت سلامت بنایا جو ان اسلامی نظریات پر صدق دل سے ایمان رکھتے ہیں کسی دوسرے سے پیچھے نہیں ہے جن کا یہ مظاہرین خود اپنے آپ کو علمبر دار سمجھتے ہیں اور پھر اسے شاندار قومی و ملی خدمات کی وجہ سے بیرونی دنیا میں بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ان لوگوں نے ایسی قابل قدر شخصیت کے خلاف بدگوئی سے کام لے کر احسان فراموشی کار انتہائی شرمناک مظاہرہ کیا۔چوہدری محمد ظفر اللہ تعالی نے جو اس وقت اقوام عالم میں دنیا ئے ا اسلام کے عظیم ترین سیاستدان تسلیم کئے جاتے ہیں پاکستان کی خدمت بجا لانے میں حیرت انگیز کارنامہ سر انجام دیا ہے۔اقوام متحدہ کے سامنے ملک کا معاملہ پیش کرنے کا سوال ہو یا مسلمان قوموں کے نظریات و مقاصد کو فروغ دینے کا مسلہ میں نمک کے قیام کا تذکرہ ہونا گیا کی پسماندہ قوموں کے حق خود اختیاری کی تائید کا ذکر ہر حال جس اعتبار سے بھی دیکھا جائے انہوں نے پاکستان کی عظمت و وقار میں وہ گرانقدر اضافہ کیا ہے کہ جس کی مثال ملنی محال ہے۔چوہدری محمد ظفر اللہ خاں ان نادر روزگار مدتیرین میں سے ایک ہیں جن کی سیاسی پیش سیفیوں میں رومانی بصیرت کا عنصر نمایاں طور پر غالب نظر آتا ہے۔ایمان ویقین اور باطنی پاکیزگی کے باہمی انتزاج نے ان کے ضمیر اور قول و فعل میں کامل مطابقت پیدا کر دی ہے وہ موجودہ وقت کے اچھے ہوئے سیاسی مسائل کو ذہبی عرفان کی مدد سے حل کرتے ہیں لیکن ان کی باطنی پر فردی اور رومانی بصیرت نام بنا و صوفیاء کی کرامات اور فاسد قسم کے مذہبی جنون سے یکسر پاک ہے