تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 116
ہی جاتا تھا۔۱۱۳ جس سے تکلیف پہنچتی اس پر اپنی مہربانی اس طرح جاری رکھتیں بلکہ زیادہ حتی کہ وہ امر اوروں کے بھی دلوں سے محمد ہو جاتا۔خشیت الہی کرنے کرنا و خضوع سے بہت ما بہت نمازیں ادا کرنے والی ، بہت میں میں بھی جلدی جلدی نماز نہیں دیکھا۔تہجد اور اشراق بھی جب تک طاقت رہی ہمیشہ با قاعدہ ادا فرماتی رہیں۔دوسرے اوقات میں بھی بہت دعا کرتی تھیں۔اکثر بلند آواز سے دعا بے اختیار اس طرح آپ کی زبان سے نکلتی گویا کسی کا دم گھٹ کر یکدم رکا ہو اسانس نکلے۔بہت ہی بیقراری اور تڑپ سے دعا فرماتی تھیں۔کبھی کبھی موزوں نیم شعر الفاظ میں اور کبھی مصرع یا شعر کی صورت میں بھی دعا فرماتی تھیں اسی درد اور تڑپ سے ایک بار لاہور میں غیر آباد مسجد کو دیکھ کر ایک آہ کے ساتھ فرمایاغ اللي مسجدیں آباد ہوں گر جائیں ، گر جائیں آپ کی دعاؤں میں سب آپ کی احمدی اولاد شریک ہوتی۔اکثر اکیسوی کا نام لے کر بے قرار ہو کر دعا کرتیں جن کا بظا ہر کسی کو خیال تک نہ ہوتا۔ایک بار لیٹے لیٹے اس طرح کرب سے یا اللہ کہا کہ میں گھبرا گئی مگر اس کے بعد کا فقرہ کیا تھا ؟ یہ کہ میرے تیر کو بیٹا دے خدا نے آپ کے تیتر مکرم مولوی عبدالرحیم صاحب نیر) کو اُس کے بعد محمودہ کڑکی سے دو بیٹے عطا فرمائے۔خدا نیکی اور زندگی اُن کو بخشے ، سب جماعت سے محبت دلی فرماتی تھیں اور خصوصا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کے زمانہ کے لوگوں سے آپ کو بہت ہی پیار تھا۔ان کی اولادوں کو اب تک دیکھ کر شاد ہو جاتی تھیں۔شاید آپ میں سے امیض کو پورا احساس نہ ہو مجھے پوچھیں آپ سچ مچے ایک اعلیٰ نعمت سے، ایک ہزار ماں سے بہتر ماں سے محروم ہو گئے ہیں۔ہر چھوٹے بڑے کی خوشی اور تکلیف میں بدل شریک ہوتی تھیں۔جب تک طاقت رہی یعنی زمانہ قریب ہجرت تک جب باہر جاتیں اکثر گھروں میں ملنے جاتیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے آپ کا میں عمل تھا مجھے کئی واقعات یاد ہیں کہ کسی کے گھر تھر پیدا ے بانی نائیجیریا مشن (وفات ، استمبر ۱۹۴۸ء مفصل بحمالات تاریخ احمدیت جبار سوم ما ۲ طبع اول میں درج ہیں :