تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 117 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 117

۱۱۴ ہوا ہے اور آپ برا بر اُن کی تکلیف کے وقت میں زیچہ کے پاس رہیں اور یہی طریق بعد میں جبتک ہمت رہی جاری رہا۔خاص چیز جو کھاتیں بہت گھلی اورضرور سب میں قسیم کرتیں حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں چونکہ لوگ کم تھے تو سب کو گھروں سے بلا کر اکثر ساتھ ہی کھلوایا کرتی تھیں۔خیرات کثرت سے فرماتی تھیں۔غرباء کو کھانا کھلانا آپ کو بہت پسند تھا۔حضرت خیرات و فیاضی مسیح موعود کے پسند کی چیز تو ضرور کھلایا کرتی تھیں۔اور گھر میں روزمرہ جب کوئی چیز سامنے آتی تو اول اول دنوں میں تو بہت فرمایا کرتی تھیں کہ یہ چیز آپ کو پسند تھی تو تم کھاؤ! ہاتھ سے کام کرنے میں ہرگز کبھی آپ کو عار نہ تھا۔قادیان سے آتے وقت بھی ہاتھ سے کام کرنا برابر خود کوئی نہ کوئی کام کرتی تھیں۔باورچی خانہ جا کر خود کچھ پکا لینا، چیز خود ہی جا کر کیسوں میں سے نکالنا، کسی کو بہت کم کہتی تھیں، خود ہی کام کرنے لگتی تھیں۔جب تک کمزوری ود سے نہ پڑھی سہارا لینا ہرگز پسند نہیں فرماتی تھیں کوئی سہارا دینا چاہتا تو نہیں دینے دیتیں کہ یکن خود پیالوں کی سہارا نہ دو۔ایک خاص بات آپ کی اپنی بچپن سے مجھے یاد ہے کہ جن ایام میں آپ نے نماز نہیں پڑھنی ذکر الہی ہوتی تھی اُس وقت کو کبھی باتوں وغیرہ میں ضائع نہیں فرماتی تھیں برابر مقررہ اوقات نماز میں تنہا ٹہل کر یا بیٹھ کر دعا اور ذکر الہی کرتی تھیں اور پھر ہمیشہ میں نے اس امر کا التزام دیکھا۔جن لڑکیوں کو پالا اُن کی جوئیں نکالنا کنگھی کرنا یہ کام اکثر خود ہی کھاتی تھیں نظافت پسندی اور باوجود نہایت صفائی پسند ہونے کے گھر نہیں کھاتی تھیں۔صاف لیاس، پاکیزہ بہتر اور خوشبو آپ کو بے حد پسند تھی مگر ان چیزوں کا شخص کبھی اس درجہ کو نہیں پہنچا کہ آپ کے اوقات نماز یا دعا یا ذکر میں خارج ہوا ہو۔خطر کا استعمال مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام بھی عطر اور چنبیلی کا تیل آپ کے لئے خاص طور پر منگایا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد آپ نے اپنا عطر کا صندوقچہ مجھے پاس بلا کر تیسرے روز دے دیا تھا ( جو یکیں نے بھاوجوں میں تقسیم کر دیا تھا) زمانہ عدت میں آپ نے خوشبو نہیں استعمال کی نہ زیور ہی کوئی پہنا۔