تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 115 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 115

١١٢ اس کے بعد میری زندگی میں ایک دوسرا مرحلہ آیا یعنی میرے میاں مرحوم کی وفات ! ان کے بعد ایک بار اور میں نے اس چشمہ محبت کو پورے زور سے پھوٹتے دیکھا جیسے بارش برستے برستے یکدم ایک چھڑا کے سے گرنے لگتی ہے۔اُس وقت وہی بابرکت ہستی تھی ، وہی رحمت و شفقت کا مجسمہ تھا جو بظاہر اس دنیا میں خدا تعالٰی رفیق اعلیٰ در حیم و کریم ذات کے بعد میرا رفیق ثابت ہوا، جس کے پیار نے میرے زخیم ولی پر مرسم رکھا جس نے مجھے بھلا دیا تھا کہ یکی اب ایک بیوہ ہوں بلکہ مجھے معلوم ہوتا تھا کہ میں کہیں جا کہ پھر آغوش مادر میں واپس آگئی ہوں۔آپ دنیا میں کوئی ایسا نہیں جو میرا منہ دیکھے کہ اداس تو نہیں ہے۔اب کوئی ایسا نہیں جو میرے احساس کو مجھے میرے دُکھ کو اپنے دل پر پیتا ہوا دُ کھ محسوس کرے۔خدا سب عزیزوں کو سلامت رکھتے۔میرے بھائیوں کی عمر میں اپنے فضل سے خاص برکت دے مگر یہ خصوصیت جو خدا نے ماں کے وجود میں بخشی ہے اس کا بدل تو کوئی خود اس نے ہی پیدا نہیں کیا اور میری ماں تو ایک بے بدل ماں تھیں سب مومنوں کی ماں۔ہزاروں رحمتیں لمحہ بلکہ بڑھتی ہوئی رحمتیں ہمیشہ ہمیشہ آپ پر نازل ہوتی رہیں۔وہ تو آب خاموش ہیں مگر ہم جبتک خدا اگلی سے نہ ملائے گا اُن کی جدائی کی کھٹک برا بر محسوس کرتے رہیں گے۔سے عمر بھر کا ہمنش بجای بن کے یہ تڑپائے گی وہ نہ آئیں گی مگر یا د چلی آئے گی اللہ تعالٰی اپنے فضل و کرم سے ہم سب کے لئے زیادہ ہی زیادہ ان دعاؤں کو جو حضرت مسیح موجود نے ہمارے لئے فرمائیں (اور حضرت اماں جان نے جو سلسلہ ٹوٹنے نہ دیا ) قبول فرمائے اور ایسا ہو کہ گویا وہ دعائیں جاری ہیں اور ہر گھڑی مقبول ہو رہی ہیں، آمین ، اور ہم سب کو اس قابل بنائے کہ ہم ان فصلوں کے بجاذب نہیں جو ہمارے لئے مانگے بجاتے رہے۔تم آمین۔حضرت اباں بھائی کو ہماری تعریف کی حاجت نہیں خدا نے جس وجود کی تعریف کر دی اس کو اور کیا چاہیئے مگر ہمارا ابھی فرض ہے کہ جو عمر بھر دیکھا اُس کو آئندہ ہونے والوں کے لئے ظاہر کردیں۔آپ ایک نمایاں شان کے ساتھ صابرہ تھیں اور خدا تعالیٰ کی رضا پر خوشی سے راضی ہونیوالی تکالیف کا حوصلہ سے مقابلہ کرنے والی ابھی کسی کا شکوہ شکایت زبان پر نہ لانے والی کیسی سے پہنچے ہوئے رینج کو مہر بہ لب ہو کہ ایسی خاموشی سے برداشت کرنے اور مٹا ڈالنے والی کہ و ہٹ