تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 106 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 106

١٠٣ ایک روحانیت کی خلعت دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ تحفہ ایسا ہے جس میں تم مخصوص ہو۔اس کی ابتداء تم سے کی بھاتی ہے اور اس کا خاتمہ مہدی کے طور پر ہوگا چنانچہ یہ کشف اس طرح پورا ہوا کہ آپ کی ہی اولاد میں سے حضرت اُم المومنین کا وجود پیدا ہوا۔یہ کشف خواجہ ناصر نذیر فراق کے بیٹے خواجہ ناصر خلیق نے اپنی کتاب میخانہ درد (ص) میں درج کیا ہے " ہے حضرت ام المومنین کے شمائل واخلاق او حضرت سیدہ کے شمائل واخلاق اور بلند سیرت بلند سیرت کے متعلق سب سے جامع اور سب سے زیادہ مختصر کلام وہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کی زبان مبارک پر خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری ہوا یعنی اذکر نعمتی رائیت خديجتي هذا من رحمة ربك میری نعمت کو یاد کر کہ تو نے میری خدیجہ کو دیکھا یہ تیرے رب کی رحمت ہے۔اس مختصر فقرہ کی کسی قدر تفصیل حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے الفاظ میں دی بجاتی ہے۔ا - حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں:۔حضرت آقای جهان رضی اللہ عنہا کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود دو امتیازی خصوصیات علیہ اسلام کے ساتھ ان کی شادی خاص الٹی تحریک کے ماتحت ہوئی تھی اور دوسرا امتیاز یہ حاصل ہے کہ یہ شادی ۱۸۸۴ء میں ہوئی۔اور یہی وہ سال ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دعوئی مجددیت کا اعلان فرمایا تھا اور پھر سارے زمانہ ماموریت میں حضرت اماں جان مرحوم مغفورہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رفیقہ حیات رہیں اور حضرت مسیح موعود اُنہیں انتہاء در رعد محبت اور انتہاء درجہ شفقت کی نظر سے دیکھتے تھے اور ان کی بے حد دلداری فرماتے تھے کیونکہ جضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ زبر دست احساس تھا کہ یہ شادی خدا کے خاص منشاء کے ماتحت ہوئی ہے اور یہ کہ حضور کی زندگی کے مبارک دور کے ساتھ حضرت اماں جان کو مخصوص نسبت ہے۔چنانچہ لے متن کے لئے ملاحظہ ہو تا ریخ احمدیت جلد ۲ ص۵۱ الفضل ۳۱ فتح ۱۳۳۱ ایش / ۳۱ دسمبر ۱۹۵۲ء جنگ : الحجم ۲ ۱۲ اگست ۱۹۰۰ ء ما بحوالہ تذکرہ ص ۳۷ ایڈیشن سوم ؛