تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 105 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 105

٤٠٣ کلکتہ اور بیٹی اور مدراس اور ہندوستان کے دوسرے جموں اور بلاد عربی اور تیر اعظم ایشیا اور افریقہ اور یورپ اور امریکہ کے مختلف ملکوں سے اس طرح چلے آرہے تھے جس طرح ایک قدرتی نہر اپنے طبعی بہاؤ میں بہتی چلی جاتی ہے۔اور پھر ان اصحاب میں صرف ہماری جماعت کے دوست ہی شامل نہیں تھے بلکہ غیر مبائع اور غیر احمدی اور غیر مسلم سب طبقات کے لوگ شامل تھے۔اظہار ہمدردی کے لئے بعض غیر احمدی معززین اور غیر مبارح اصحاب مثلا مرزا مسعود بیگ صاحب لاہور سے اور مکرم عبداللہ جان صاحب پشاور سے ربوہ تشریف لائے یہ سید نا حضرت مصلح موعود د حضرت حضرت ام المومنین کا مقام سید محمود کی نظریں ام المومنین کی وفات کا ذکر • کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- " اس سال احمدیت کی تاریخ کا ایک بہت ہی اہم واقعہ ہوا ہے اور وہ ہے حضرت ام ال نین کی وفات۔ان کا وجود ہمارے اور حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے درمیان میں ایک زنجیر کی طرح تھا اولاد کے ذریعے بھی ایک تعلق اور واسطہ ہوتا ہے مگر وہ اور طرح کا ہوتا ہے۔اولاد کو ہم ایک رخت کا پھول تو کر سکتے ہیں مگرا سے اس درخت کا اپنا حصہ نہیں کہا جا سکتا۔پس حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا ہمارے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درمیان ایک زندہ واسطہ تھیں اور یہ واسطہ ان کی وفات سے ختم ہو گیا۔پھر حضرت ام المومنین کے وجود کی اہمیت عام حالات سے بھی زیادہ تھی کیونکہ ان کے متعلق خدا تعالیٰ نے قبل از وقت بشارتیں اور خبریں دیں چنانچہ انجیل میں آنے والے سیج کو آدم کیا گیا ہے۔اس میں میں بھی اشارہ تھا کہ جس رنگ میں خوا آدم کی شریک کیا تھیں اسی طرح مسیح موعود کی بیوی بھی اس کی شریک کار ہوگی۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ آنے والا سے شادی کرے گا اور اس کی اولاد ہو گی۔اب شادی تو مہر نبی کرتا ہے۔صاف ظاہر ہے کہ اس خبر میں ہیں اشارہ تھا کہ اس کی بیوی کو یہ خصوصیت حاصل ہو گی کہ وہ اس کے کام میں اس کی شریک ہوگی۔اسی طرح دلّی میں ایک مشہور بزرگ خواجہ میر ناصر گزرے ہیں ان کے متعلق آتا ہے کہ ان کے پاس کشمت میں حضرت امام حسن نے تشریف لائے اور انہوں نے به روز نامہ الفضل لاہور ۳۰ر شهادت ۳۳۱ ایش جنگ ہے 1