تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 107 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 107

۱۰۴ بعض اوقات حضرت اماں جان بھی محبت اور ناز کے انداز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کرتی تھیں کہ میرے آنے کے ساتھ ہی آپ کی زندگی میں برکتوں کا دور شروع ہوا ہے جس پر حضرت مسیح موعود شکرا کو فرماتے تھے کہ ہاں یہ ٹھیک ہے۔دوسری طرف حضرت امال جان بھی حضرت مسیح موعود کے متعلق کامل محبت اور کامل لیگا نگت کے مقام پر فائز تھیں اور گھر میں کیوں نظر آتا تھا کہ گویا ڈو سینوں میں ایک میل کام کر رہا ہے۔حضرت آقای جان رضی اللہ عنہا کے اخلاق فاضلہ اور آپ کی نیکی اور تقوی کو مختصر الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں مگر اس جیگر میں صرف اشارہ کے طور پر نمونہ چند باتوں کے ذکر پر اکتفا کرتا ہوں۔آپ کی نیکی اور دینداری کا متقدم ترین پہلو نماز اور نوافل میں شغف تھا۔عبادات میں شعف پانچ فرض نمازوں کا تو کیا کہنا ہے حضرت اماں جان نماز تہجد اور نماز شیخی کی بھی بے سود پابند تھیں اور انہیں اس ذوق و شوق سے ادا کر تی تھیں کہ دیکھنے والوں کے دلوں میں بھی ایک خاص کیفیت پیدا ہونے لگتی تھی بلکہ ان نوافل کے علاوہ بھی جب موقعہ ملتا تھا نماز میں دل کا سکون حاصل کرتی تھیں۔میں گوری بصیرت کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فدا نفسی) کی یہ پیاری کیفیت کہ جُعِلَتْ قُرَّةٌ عَيني في الصلوة یعنی میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں ہے) حضرت اماں جان کو بھی اپنے آقا سے ورثے میں ملی تھی۔پھر دعا میں بھی حضرت اماں جان کو بے حد شغف تھا۔اپنی اولاد اور دوسرے عزیزوں بلکہ ساری حاجات کے لئے جیسے وہ اولاد کی طرح مجھتی تھیں بڑے درد و سوز کے ساتھ دعا فرمایا کرتی تھیں اور اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے ان کے دل میں غیر معمولی تڑپ تھی۔اولاد کے متعلق حضرت اناں جان کی دعا کا نمونہ ان اشعار سے ظاہر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السّلام نے اماں جان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کی طرف سے اور گویا انہی کی زبان سے فرمائے۔خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے آپ عرض کرتے ہیں کوئی ضائع نہیں ہوتا جو تیر ا طالب ہے : کوئی رسوا نہیں ہوتا جو ہے جو یاں تیرا آسمان پر سے فرشتے بھی مدد کرتے ہیں ؟ کوئی ہو جائے اگر بن رو فرماں تیرا اس جہاں میں ہی وہ جنت میں ہے بے دیئے گماں نہ وہ جو ایک مختہ تو کل سے ہے جہاں تیرا کے نسائی باب النساء مسند احمد بن حنبل جلد ۳ صفحه ۱۲۸ ، ۱۹۹، ۲۸۵ :