تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 97 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 97

۹۴ کی صورت پیدا نہ ہوئی۔اس کے بعد حکیم محمدحسن صاحب قرشی کو بھی بلا کر دکھایا گیا جن کے ساتھ حکیم محمد حسین صاحب مرسم عیسی بھی تھے لیکن ان کے علاج سے بھی کوئی تخفیف کی صورت پیدا نہ ہوئی۔مقامی طور پر ڈاکٹر صا حبزادہ مرزا منور احمد صاحب بھی معالج تھے جن کے ساتھ بعد میں حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب بھی شامل ہو گئے اور چند دن کے لئے درمیان میں ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا مبشر احمد صاحب نے بھی علاج میں حصہ لیا۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبارک خواتین او نونهال نهایت تندہی کے ساتھ خدمت میں لگے رہے۔بالآخر ۲ شہادت ۳۳۱ امش / ۲۰ اپریل ۱۹۵۲ء کی صبح کو ساڑھے تین بجے کے قریب دل میں ضعف کے آثار پیدا ہوئے جو فوری علاج کے نتیجہ میں کسی قدر کم ہو گئے مگر دن بھر دل کی کمزوری کے حملے ہوتے رہے۔اس عرصہ میں حضرت سیدہ کے ہوش و حواس خدا کے فضل سے اچھی طرح قائم رہے۔صرف کبھی کبھی عارضی غفلت سی آتی تھی جو جلد دور ہو جاتی تھی۔رات پونے نو بجے آپ نے دل میں زیادہ تکلیف محسوس کی اور اس کے ساتھ ہی نظام تنفس میں خلل آنا شروع ہو گیا اور نبض کمزور پڑنے لگی۔ڈاکٹر صا حبزادہ مرزا منور احمد صاحب نے خود ہی ٹیکے وغیرہ لگائے مگر کوئی افاقہ کی صورت پیدا نہ ہوئی۔اس وقت حضرت اہاں جانی نے اپنی زبان مبارک سے فرمایا کہ قرآن شریف پڑھو چنا نچہ حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ تعالی عنہ کے چھوٹے صاحبزادے میر محمود احمد صاحب نے قرآن شریف پڑھ کر سنایا۔اس وقت حضرت امیرالمونی خلیفة المسیح الثانی الصلح الموعودہؓ آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے آپ نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا دعا کریں چنانچہ حضور بعض قرآنی دعائیں کسی قدر اونچی آواز سے دیرہ تک پڑھتے رہے۔اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ خود حضرت اماں جان مصروف دعا ہیں۔آپ کی نفیض اس وقت بیحد کمزور ہو چکی تھی بلکہ اکثر اوقات محسوس تک نہیں ہوتی تھی لیکن ہوش و حواس بدستور قائم تھے اور کبھی کبھی آنکھیں کھول کر اپنے اردگرد نظر ڈالتی تھیں اور آنکھوں میں شناخت کے آثار بھی واضح طور پر موجود تھے۔حضرت امیر المومنین تھوڑے وقفہ کے لئے باہر تشریف لے گئے تو حضرت مرزا بشیر احد صا حدیث ، حضرت سیدہ کے سامنے بیٹھ کر دعائیں کرتے رہے۔اس وقت بھی آپ آنکھ کھول کر دیکھتی تھیں ے حال پر و فیسر بھا معہ احمدیہ دیوہ *