تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 96 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 96

۹۳ حوصلہ پست نہ کیجئے اور یہ مت کہئے کہ فلاں رعایت ملے گی تو کام ہو گا۔اگر پنجاب والے حوصلہ چھوڑ دیں تو کام ہی رک جائے۔تم اپنا کام بھی کرو اور اس کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی تبلیغ کا کام کر وہ کسی مومن کے ذمہ کوئی خاص گھر نہیں، کوئی خاص گاؤں نہیں ، کوئی خاص شہر نہیں، کوئی خاص ملک نہیں بلکہ ساری دنیا ہے ہے فصل شتم حضرت سید نصرت جهان بینی کا انتقال می محمدی علیہ السلام کے یوم وصال ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کی طرح ہے اپریل ۱۹۵۲ء کی درد بھری رات بھی سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کی جاسکتی۔یہ وہ رات تھی جس میں جماعت احمدیہ اور مہدی موعود کے درمیان وہ زندہ واسطہ جو حضرت ام المومنین سیده نصرت جہاں بیگم کے مقدس وجود کی شکل میں اب تک باقی تھا آپ کی وفات کے ساتھ ہمیشہ کے لئے منقطع ہو گیا۔حضرت سید و نصرت جهان بیگم موم مسیح پاک قریباً دو ماہ سے بیمار تھیں۔ڈاکٹرتی شخص علالت کے مطابق گردوں کے فعل میں نقص پیدا ہو جانے سے بیماری کا آغاز ہوا اور پھر اس کا اثر ویل پر اور تنفس پر پڑنا شروع ہوا بیماری کے حملے وقتاً فوقتاً بڑی شدت اختیار کرتے رہے لیکن آپ نے ان تمام شدید حملوں میں نہ صرف کا مل صبر و شکر کا نمونہ دیکھا یا بلکہ بیماری کا بھی نہایت ہمت کے ساتھ مقابلہ کیا۔اس موصہ میں لاہور سے علی الترتیب ڈاکٹر کرنل ضیاء اللہ صاحب، ڈاکٹر غلام محمد صاحب بلوچ اور ڈاکٹر محمد یوسف صاحب علاج کے لئے بلائے جاتے رہے۔ان کے ساتھ مکرم ڈاکٹر محمد یعقوب خان صاحب بھی ہوتے تھے لیکن وقتی افاقہ کے سوا بیماری میں کوئی تخفیف ے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ و اصلا ( یہاں اشارہ بنگالی احمدیوں کی طرف ہے جن کے امیر صاحب صوبائی نے مشاورت ہمیں بعض مطالبات پیشی کہتے تھے ) :