تاریخ احمدیت (جلد 14)

by Other Authors

Page 95 of 571

تاریخ احمدیت (جلد 14) — Page 95

۹۲ ایک لا کھ کتاب ہو تو ہمارے پاس پچاس آدمی لائبریرین ہونا چاہیئے جن میں سے کچھ نئی کتابوں کے پڑھنے میں لگا رہے، کچھ پرانی کتابوں کے خلاصے تیار کرنے میں لگا ر ہے، کچھ ایسے ہوں جو طلباء کے لئے نئی نئی کتابوں کے ضروری مضامین الگ کرتے چلے جائیں تاکہ وہ تھوڑے سے وقت میں ان پر نظر ڈال کر اپنے علم کو بڑھا سکیں۔حقیقت یہ ہے کہ طالبعلموں کو جو سکولوں اور کالجوں میں کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ان سے دنیا میں وہ کوئی مفید کام نہیں کر سکتے کیونکہ وہ صرف ابتدائی کتا بیں ہوتی ہیں مگر پھر بھی کسی کالج اور سکول سے امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ ہر طالب علم کولاکھ لاکھ ڈو ڈولا کھ کتاب پڑھا دے۔یہ لائبریرین کا کام ہوتا ہے کہ وہ ایسے خلاصے نکال کر رکھیں کہ جن پر طلباء کا نظر ڈالنا ضروری ہو۔اور جن سے تھوڑے وقت میں ہی وہ زیادہ فائدہ اُٹھا سکتے ہوں" " عرض یہ کام نہایت اہم ہے اس کے بغیر ہماری جماعت کی علمی ترقی نہیں ہوسکتی۔مرکزی لائبریری یعنی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی لائبریری بھی اسی میں شامل ہو جائے گی اور پھر میری کتابیں بھی آخر آپ لوگوں کے ہی کام آتی ہیں۔اس طرح پانچ سات سال میں اس قدر رکھتا ہیں جمع کر لی جائیں کہ ہر قسم کے علوم ہمارے پاس محفوظ ہو جائیں لے کے حضرت امير المؤمنين الصلح الموعود نے مشاورت کے پر اثر اختتامی اختتامی خطاب خطاب میں جماعت احمدیہ کے بین الاقوامی نصب العین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:۔ہمارامقابلہ اڑھائی کروڑیا تین کروڑ سے نہیں بلکہ ہمارا مقابلہ اڑھائی ارب سے ہے اور یہ مقابلہ کم نہیں۔جو حالت آپ لوگوں کی ہے وہی حالت ہماری ہے۔ہم نے دنیا میں تبلیغ کرتی ہے ے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء صد تا مشاو نه جیسا کہ ۱۳۳۱اہش / ۱۹۵۲ء کے واقعات کی آخری فصل میں ذکر آ رہا ہے حضرت مصلح موعود نے اس منصوبہ کی داغ بیل کے طور پر اپنی ذاتی لائبریری اور صدر انجین احمدیہ کی لائبریری کو مدغم کر کے خلاف لائبریری قائم فرما دی جس نے خلافت ثانیہ کی علمی ضروریات کو پورا کرنے ہیں اہم کردار ادا کیا۔ازاں بعد حضرت خلیفہ السیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۸ صلح ۱۳۴۹ اتش / ۸ استیوری 19ء کو خلافت لائبر میری ربوہ کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا اور اسر الفاء ۱۳۵۰ پیش ۳ اکتوبر ۱۹۷۱ء کو ان کا انفتاح فرمایاره و تفصیل خلافت نمائشہ کے حالات میں آئے گی ؟