تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 71 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 71

اس کا باپ سب سے زیادہ ذلیل آدمی ہے مگر خدا رحم کرے ہم پر بھی جن کے سامنے دنیا نے محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو اتنی گالیاں دی ہیں کہ کسی ذلیل ترین انسان کو بھی وہ گالیاں نہیں دی گئیں مگر ہم آرام سے بیٹھے ہیں ہمارے دلوں میں یہ جوش پیدا نہیں ہوتا کہ ہم وہ بات غیر کے منہ سے کھلوا سکیں جو عبد اللہ کے بیٹے نے عبد اللہ کے منہ سے کہلوائی کس طرح ہم کو چکن آرہا ہے کس طرح ہمارے دل ادھر اُدھر کی باتوں میں مشغول ہیں۔اگر عبداللہ کے بیٹے مقتنا ایمان ہی ہمارے دلوں میں ہوتا حالانکہ چاہیئے تھا کہ اس سے بہت زیادہ ایمان ہوتا تو ہمارا فرض تھا کہ ہم اس وقت تک میسر نہ کرتے جب تک دنیا کو گھٹنے ٹیک کر یہ الفاظ کہنے پر مجبور نہ کر دیتے کہ دنیا کا سب سے زیادہ معتر ز وجود محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کا ہے اور اس کا دشمن سب سے زیادہ ذلیل ہے ہم ایک دفعہ پھر یہاں جمع ہوئے ہیں خدا تعالیٰ کی عنایت اور اس کی مہربانی سے آؤ ہم بیچے دل سے یہ عہد کریں کہ ہم کم سے کم عبد اللہ کے بیٹے جتنا ایمان دکھائیں گے اور جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا اقرار دنیا سے نہیں کروالیں گے اس وقت تک ہم اطمینان اور چین سے نہیں بیٹھیں گے یا اے حضور نے افتتاحی خطاب کے علاوہی ۱۲۸٫۲ فتح حضرت امیر المومنین کی دوسری تقریریں کیدوسری دسمبر کو مفصل تقاریر فرمائیں جن میں ان پیشگوئیوں پر تفصیلا روشنی ڈالی جو اس زمانہ میں حضور کے بابرکت وجود سے پوری ہوئیں۔ربوہ میں زمین خریدنے اور اس میں مکان بنانے کی نصیحت کی غرباء کے مکانات کے لئے چندہ کی تحریک فرمائی۔انگریزی ترجمہ قرآن کی ایک اور جلد تیار ہونے کی خوشخبری دی۔خدام الاحمدیہ کو پابندئی نماز، ذکر الہی ، شعار اسلامی کے قیام خدمت خلق اور بہادری جذبہ قربانی اور ایثار کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا بہادری کا نمونہ دکھاؤ اور ماریں کھانے ، گالیاں شنکر برداشت کرنے کی عادت ڈالو لیکن بے غیرتی مت دکھاؤ کیونکہ بہادری بے غیرتی کا نام نہیں۔زراعت کے تعلق میں اگلے سال احمدی زمینداروں اور ماہرین فون کی ایک مجلیس شوری بلانے کا ارادہ ظاہر کیا۔تجارت کے بارے میں بتایا کہ اس کے بغیر جماعت ترقی نہیں کر سکتی نیز یہ کہ ہم نے ایک چیمبر آف کامرس قائم کیا ہے۔چھوٹے بڑے سب تاجروں کو چاہیے کہ وہ اس میں شامل ہوں تا جماعت منظم ہو سکے حضور نے دوران تقریر مہاجرین کو خوش رہنے کی بھی تلقین فرمائی پھر اس تجویز شه ع الفضل السر فتح ه م نه مکمل متن الفضل 16 ستمبر 1961ء فقد ون 15 میں شائع ہوا