تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 72 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 72

کا اعلان کیا کہ قضیوں کا بورڈ قائم کیا جائے جو مشرقی پنجاب سے آنے والے مقروضوں کے تنازعات کا فیصلہ کرے جس شخص کا کسی دوسرے کے ذمہ قرض ہو وہ محکمہ قضاء میں نالش کرے۔البتہ اگرکسی کو رجسٹرڈ بالمیٹڈ کمپنیوں کے بارہ میں شکایت ہو تو وہ سرکاری عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے کیونکہ محالہ کو لٹکانا فساد پیدا کرتا ہے اور اس سے دلوں پر رنگ لگتا اور فتنہ پیدا ہوتا ہے۔الغرض حضور نے پیش آمدہ حالات میں احباب جماعت کی راہنمائی فرمائی سے ر اس جلسہ میں گذشتہ جلسہ کے مقابل سامعین کی تعداد تیرہ ہزار جلسہ ربوہ کی لعیض خصوصیات کے بر کی بات بنے گی جیسا کہ یارسول اینڈ میری گرد +1909 اور پاکستان ٹائمز (موریضہ) ۳۱ دسمبر ۹ہ نے سٹار نیوز ایجنسی کے حوالہ سے خبر شائع کی۔جلسہ میں مستورات کے لئے ایک الگ لنگر خانے کا انتظام کیا گیا۔لجنہ اماءاللہ کی متظلمات اپنی ضرورت کے مطابق کھانا پکواتیں اور اپنے زیر نگرانی تقسیم کراتی تھیں۔یہ پہلا تجربہ تھا جوبہت کامیاب رہا۔اس دفعہ مہمانوں کے قیام کے لئے دو سو بر کی تیار کی گئیں جن میں حضرت امیر المومنین اصلح الموعود کی ہدایت کے مطابق کچی اینٹوں کے علاوہ پانچ لاکھ پکی اینٹیں بھی استعمال کی گئیں۔یہ کام حضرت صاجزاء مرزا عزیز احمد صاحب ناظر اعلیٰ کی مسلسل تگ و دو اور شب وروز کی محنت شاقہ سے پایہ تکمیل کو پہنچا۔بیرکوں کے علاوہ پانچ سو سنتیں خیموں اور چھولداریوں کا بھی بندو بست کیا گیا۔1979 باه شهادت ۱۳۲۸ / اپریل ۱۹۴۹ کے پہلے جلسہ ربوہ میں تو مصارف کثیر کے باوجود پانی کی سخت وقت رہی تھی اور ٹینکروں کے ذریعہ ساڑھے سات میل کے فاصلہ سے پانی منگوانا پڑا تھا مگر اس جلسہ پر زندہ خدا کا پر زندہ نشان ظاہر ہوا کہ خدا تعالیٰ کی اس بشارت کے مطابق کہ ربوہ میں با افراط پانی میسر آنے لئے گانے نہ صرف یہ کہ بیوہ کی بنجر اور کلر زدہ زمین میں سے میٹھا پانی نکلا بلکہ اس کثرت سے نکالا کہ جلسہ سالانہ پر آنے والے نہیں ہزار مہمانوں کی ضروریات بآسانی پوری ہوتی رہیں۔اور پھر نکلا بھی عین اس جگہ کے قریب جو پہلے سے پاس شدہ نقشہ کے مطابق حضرت مصلح موعود کے مکان کے لئے مخصوص سے تھی ہے له الفضل صلح ۱۳۲۹۵ ص۴۳ * سے تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد ۱۳ ص ۲، ص۳ کے جلسہ سالانہ کے تفصیلی کو الف روزنامہ الفضل ۱۶۰۱۳۰۱ صلح ه۲۹ میں شائع شدہ ہیں : ؛