تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 70 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 70

79 قاتل ہے اور میں جوش میں آکر اس پر حملہ کر بیٹھوں اور اس طرح بے ایمان ہو جاؤں۔یارسول للہ میری درخواست یہ ہے کہ آپ مجھے ہی یہ حکم دیجئے کہ میں اپنے باپ کو اپنے ہاتھ سے قتل کروں تا کہ کسی مسلمان کا کینہ میرے وال میں پیدا نہ ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں کہ ہم تمہاری باپ کو قتل کریں اس نے بات کی اور اپنے اندرونہ کو ظاہر کر دیا ہماری طرف سے اس پر کوئی گرفت نہیں۔اب بات بظا ہر ختم ہو گئی اور وہ آئی گئی ہوگئی۔انصار اور مہاجر آپس میں پھر جاگیر ہو گئے۔عبدالہ بن ابی ابن سلول پھر الیل اور شرمندہ ہو کر اپنے نیم میں جاگا۔پھر انصار اور مہاجرین میں بھائیوں بھائیوں کا سا نظارہ نظر آنے لگا غیر اس کی بات بھول گئے رشتہ دار اس کی بات بھول گئے، دوست اس کی بات بھول گئے دشمن اس کی بات بھول گئے لیکن اس کا بیٹا اس بات کو نہیں بھولا اور بغیر اس واقعہ کے ایسے اور کسی چیز کا خیال تک نہیں آیا جس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری مدینہ منورہ میں داخل ہو چکی اور اسلامی لشکر اندر داخل ہونے لگا تو وہ لڑکا اپنی سواری سے کود کر گلی کے کنارے پر کھڑا ہو گیا اور جب اپنے باپ عبد اللہ بن ابی کو دیکھا تو اس نے تلوار نکال کر اپنے باپ سے کہا تمہیں یاد ہے تم نے وہاں کیا الفاظ کہے تھے تم نے کہا تھا کہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم مدینہ کا سب سے زیادہ ذلیل انسان ہے اور تم سب سے معزز انسان ہو۔غذا کی قسم محمد رسول اللہ سے اللہ علیہ وسلم نے تم کو معاف کر دیا لیکن میں تمہیں معاف نہیں کروں گا اور تمہیں اس وقت تک مدینہ میں داخل نہیں ہونے دوں گا جب تک تم تین دفعہ میرے سامنے یہ اقرار نہ کرو کہ میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ معززہ انسان ہیں۔باپ نے دیکھ لیا کہ آج اس بیٹے کی تلوار ی سے پیٹ میں جائے بیر نہیں رہے گی، آج اس کی تلوار میرے دل کو چیرے بغیر نہیں رہے گی اس نے اپنے سارے ہمنشینوں اور تلسیوبی کے سامنے جن میں وہ اپنی بادشاہت کی لائیں مارا کرتا تھا اقرار کیا کہ ہاں میں مدینہ کا سب سے زیادہ ذلیل شخص ہوں اور محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ معتز زانسان ہیں۔مجھے یہ واقعہ یاد آگیا اور نہیں نے کہا خدا کی رحمتیں ہوں عبداللہ کے بیٹے پر کہ اس نے اس طعنہ کو نہیں بھایا اور تب تک اس نے آرام نہیں کیا جب تک اپنے باپ کے منہ سے اس نے یہ نہ کھلوایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سب سے زیادہ معوز وجود ہیں اور صلے