تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 69 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 69

NA جتنا قادیان میں ہوا کرتا تھا کیونکہ ابھی ہماری پیرانیانی کا زمانہ ختم نہیں ہوا لیکن اور کونسی قوم ہے نہیں کی حالت تمہارے جیسی ہے۔اور کونسی جماعت ہے، جو آج اس طرح پھر جمع ہو کر ایک مقام پر بیٹھ گئی ہے یقینا اور کوئی قوم ایسی نہیں اپس تمہارے اس فعل نے بتا دیا کہ تمہارے اندر ایک حد تک قومی روح ضرور سرایت کر چکی ہے تم آڑے بھی تم پراگندہ بھی ہوئے، تم منتشر بھی ہوئے مگر پھر جو تمہاری جبلت ہے، جو تمہاری طبیعت ہے، جو چیز تمہاری فطرت بن چکی ہے کہ تم ایک قوم بن کر رہتے ہو اور ایک آواز پر اکٹھے ہو جاتے ہو یہ فطرت تمہاری ظاہر ہو گئی اور دنیا نے دیکھ لیا کہ کوئی طاقت تمہیں ہمیشہ کے لئے پراگندہ نہیں کر سکتی۔اس کے بعد حضور نے شعبان شہر کے مشہور واقعہ غزوہ بنو مصطلق پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا :- مجھے اس وقت یا د تو کیا آگیا ایک واقعہ تھا جس کا اس بات کے کہتے کہتے میری آنکھوں کے سامنے نفقہ کھنچ گیا۔ایک جنگ کے موقع پر نہار اون با جرین میں جھگڑا ہو گیا۔اور یوں حلوم ہونے پر ہوا لگا جیسے آج مہاجر اور انصار آپس میں لڑہی پڑیں گے۔اس وقت عبد اللہ بن ابی ابن سلول دیرینہ منافق نے کہا اسے انصار یہ تمہاری ہی غلطیوں کا نتیجہ ہے کہ تم ان لوگوں کے منہ سے ایسی باتیں سن رہے ہو میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ تم ایسا قدم مت اٹھاؤ مگر تم نہ مانے اب شکر ہے کہ میری بات تمہاری سمجھ میں آرہی ہے تم ذرا ٹھہرو اور مجھے مدینہ پہنچ لینے دو پھر دیکھو گے کہ مدینہ کا سب سے زیادہ معزز شخص یعنی وہ کمبخت (نعوذ باللہ مدینہ کے سب سے زیادہ ذلیل آدمی یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں سے نکال دے گا اور یہ فتنہ ہمیشہ کے لئے دُور ہو جائے گا۔عبد اللہ کا بیٹا مومن تھا وہ ایک سچا مسلمان تھا جب اس نے اپنے باپ کی یہ بات سنی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا یا رسولی اللہ میرے باپ نے جو بات کہی ہے اس کی سزا سوائے قتل کے اور کوئی نہیں ہو سکتی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ آپ یہی سزا اسے دیں گے لیکن میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اگر کسی اور مسلمان کو آپ نے کہا اور اس نے میرے باپ کو قتل کر دیا اور پھر کوئی کمزوری کا وقت مجھ پر آ گیا اور وہ مسلمان میرے سامنے آیا تو ممکن ہے میرے دل میں خیال آجائے کہ یہ میرے باپ کا به سیرت خاتم النبیین حصہ دوم طبع اول ص ۲۳۲ تا صد ۲۳ مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب