تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 37
ہوتے ہیں کہ سمجھتے ہیں سب نتائج کی بنیا د مادیات پر ہی ہے اور ایک ھؤلاء ان لوگوں کی طرف جاتا ہے جو مادیات سے بالکل بالا ہو کر اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ سمجھتے ہیں ہم نے خدا سے بھی نہیں مانگنا اور ایک درمیانی گروہ ہوتا ہے وہ اپنے اپنے درجہ کے مطابق ظاہر میں کچھ مادی کوششیں بھی کر لیتے ہیں اور پھر ساتھ اس کے اللہ تعالیٰ پر توکل بھی رکھتے ہیں کبھی مانگتے ہیں اور کبھی نہیں مانگتے یا اپنی نہ ندگی میں سے کچھ عرصہ کوشش اور بعد و جہد کرتے ہیں اور کچھ عرصہ کوشش اور جدوجہد کو ترک کر دیتے ہیں۔ظاہری تدبیر حضرت خلیفہ اول یعنی اللہ عنہ نے بھی کی۔آپ طب کرتے تھے اور روپیہ کماتے تھے اور ظاہری تدبیر ہم نے بھی کی ہم بھی زمیندارہ کرتے ہیں اور بعض دفعہ تجارت بھی کر لیتے ہیں مگر اس نیت سے کرتے ہیں کہ اس کا نتیجہ خدا تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے۔اگر وہ کہے کہ میں نے تمہیں کچھ نہیں دینا تو ہمیں اس سے کوئی شکوہ زمیں ہو گا ہمیں اس کے فیصلہ پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا ہم پھر بھی یہی کھیں گے کہ وہ ہماری اتنی ہی حمد کا مستحق ہے جتنی حمد کا اب تحق۔ہے بلکہ وہ ہماری اتنی حید کا مستحق ہے جتنی حمد م کر بھی نہیں سکتے ہیں اس مقام کے رہنے والوں کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ تو کل سے کام لیں اور ہمیشہ اپنی نگاہیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلند رکھیں جو دیا تدار احمدی ہیں میں ان سے کہوں گا کہ اگر و کسی وقت یہ دیکھیں کہ وہ تو کل کے مقام پر قائم نہیں رہے تو وہ خود بخود یہاں سے پہلے جائیں اور اگرخود نہ جائیں تو جب ان سے کہا جائے کہ چلے جاؤ تو کم سے کم اس وقت ان کا فرض ہو گا کہ وہ یہاں سے فوراً چلے جائیں۔یہ جگہ خدا تعالیٰ کے ذکر کے بلند کرنے کے لئے مخصوص ہونی چا ہیے یہ جگہ خدا تعالیٰ کے نام کے پھیلانے کے لئے مخصوص ہونی چاہیے۔یہ جگہ خدا تعالیٰ کے دین کی تعلیم اور اس کا مرکز بننے کے لئے مخصوص ہونی چاہیئے ہم میں سے ہر شخص کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنی اولاد اور اپنے اعزہ اور اقارب کو اس رستہ پر چلانے کی کوشش کر ہے۔یہ ضروری نہیں کہ وہ اس کوشش میں کامیاب ہو سکے۔نوح کی کوشش کے باوجود اس کا بیٹا اس کے خلاف رہا۔لوط کی کوشش کے باوجود اسکی بیوی اس کے خلاف رہی۔اسی طرح اور کئی انبیاء اور اولیاء ایسے ہیں جن کی اولادیں اور بھائی اور رشتہ دار ان کے خلاف رہے ہم میں سے کوئی شخص یہ نہیں کر سکتا کہ وہ اپنے خاندان میں سے کتنوں کو دین کی طرف لا سکے گا مگر اس کی کو شمش ہی ہونی چاہئیے کہ اس کی ساری اولاد اور اسکی ساری نسل دین کے پیچھے چلے اور اگر اس کی کوشش کے باوجود اس کا کوئی عزیز اس رستہ سے دُور