تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 36
۳۵ خدا تعالیٰ خود دیتا ہے اور بے مانگے کے دیتا ہے۔مجھے اپنی زندگی میں ہمیشہ ہنسی آتی ہے اپنی ایک بات پر اگر یہ ابتدائی مقام کی بات تھی اور اعلی مقام ہمیشہ ابتدائی منازل کو طے کرنے کے بعد ملتا ہے اور ابتدائی مقام یہی ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے میں نے خدا سے مانگنا ہے) کہ میں نے بھی بغدا سے کچھ مانگا اور اپنے خیال میں انتہائی درجہ کا مانگا مگر مجھے ہمیشہ ہنسی آتی ہے اپنی بیوقوفی پر اور ہمیشہ گلف آتا ہے خدا تعالیٰ کے انتظام پر کہ جو کچھ ساری عمر کے لئے لیکں نے مانگا تھا وہ بعض دفعہ اس نے مجھے ایک ایک ہفتہ میں دے دیا ئیں زمین پر شرمندہ ہوں کہ میں نے کیا حماقت کی اور اس سے کیا مانگا اور وہ آسمان پر ہنستا ہے کہ اس کو ہم نے کیسا بدلہ دیا اور کیسا نام اور شرمندہ کیا۔پھر میں نے سمجھا کہ مانگنا بھی فضول ہے کیوں نہ ہم اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا کریں کہ وہ ہمیں بے مانگے ہی دیتا چلا جائے ایک شخص جو کسی بڑے آدمی کے گھر مہمان جاتا ہے وہ اگر اس سے کیا کر کہے کہ صاحبہ میں آپ کے گھر سے کھانا کھاؤں گا تو اس میں میزبان اپنی کتنی ہتک محسوس کرتا ہے جب وہ اس کے ہاں مہمان آیا ہے تو صاف بات یہ ہے کہ وہ اس کے ہاں سے کھانا کھائے گا۔اس کا یہ کہنا کہ میں آپ کے ہاں سے کھانا کھاؤں گا یہ مفہوم رکھتا ہے کہ وہ میزبان کے متعلق اپنے دل میں یہ باظتی محسوس کرتا ہے کہ شائد وہ کھانا نہ کھلائے۔اسی طرح اللہ تعالی کا جو مہمان ہو جاتا ہے اسے اللہ تعالیٰ خودکھلاتا اور پلاتا ہے اگر وہ اس سے مانگے تو اس میں اس کی اعلیٰ وارفع شان کی بہتک ہوتی ہے۔مگر خدا کا سلوک ہر بندے سے مختلف ہوتا ہے۔وہ جو ندا کے لئے اپنی زندگی وقف نہیں کرتے ان کو بھی وہ روزی ہم پہنچاتا ہے اور جو اس کے لئے اپنی ساری زندگی کو وقف کئے ہوئے ہوتے ہیں ان کو بھی روزی ہم پہنچاتا ہے۔وہ فرماتا ہے كُلَّا نُمَدُ هَؤُلَاء وَهُؤلاء ہم اس کے لئے بھی روزی کا انتظام کرتے ہیں جو ایمان سے خارج اور دہریہ ہوتا ہے اور اس کے لئے بھی روزی کا انتظام کرتے ہیں جو ہم پر کامل ایمان رکھنے والا ہوتا ہے۔یہ دو گروہ ہیں جو الگ الگ ہیں۔ایک وہ ہے جو ہمیں گالیاں دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں خود کمائی کروں گا اور اپنی کوشش سے رزق حاصل کروں گا۔ایک گروہ وہ ہے جو کہتا ہے کہ کمائی لغو چیز ہے بلکہ میں نے تو خدا تعالیٰ اسے بھی نہیں مانگنا اس کی مرضی ہے چاہیے دے یا نہ دے۔فرماتا ہے ہم اس گروہ کو بھی دیتے ہیں اور اُس گروہ کو بھی دیتے ہیں۔ایک ھؤلاء ان لوگوں کی طرف جاتا ہے جو بد ترین خلائق ہوتے ہیں اور جو مادیات کے اتنے دلدادہ اور عاشق