تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 38
پسرم چلا جاتا ہے تو سمجھ لے کہ وہ میری اولادین سے نہیں میری اولا دو ہی ہے جو اس منشاء کو پورا کرنے والی ہے جو الی منشاء ہے جو شخص دین کی خدمت کے لئے تیار نہیں وہ ہماری اولا دمیں سے نہیں ہم اپنی اولاً کو مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ ضرور دین کے پیچھے ملیں ہم ان کے دل میں ایمان پیدا نہیں کر سکتے خدا ہی ہے جو ان کے دلوں میں ایمان پیدا کرسکتا ہے لیکن ہم یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ جو اولاد اس منشاء کو پورا کرنیوالی نہ ہوا سے ہم اپنے دل سے نکال دیں۔بہر حال اگر خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ہمیں اعلیٰ مقام دے تو ہمیں کوشش کرنی چاہئیے کہ صرف ہم ہی نہیں بلکہ ہماری آئندہ نسلیں بھی اس مقام کو دین کا مرکز بنائے ھیں اور ہمیشہ دین کی خدمت اور اس کے کلمہ کے اعلاء کے لئے وہ اپنی زندگیاں وقف کرتے چلے جائیں لیکن اگر ہماری کسی غلطی اور گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ یہ مقام نہیں نصیب نہ کرے اور ہماری ساری اولادیں یا ہماری اولادوں کا کچھ حصہ دین کی خدمت کرنے کے لئے تیار نہ ہو۔اللہ تعالیٰ پر توکل اسکے اندر نہ پایا جاتا ہو۔ندا تعالیٰ کی طرف انابت کا مادہ اس کے اندر موجود نہ ہو تو پھر ہمیں اپنے آپ کو اس امر کے لئے تیار رکھنا چاہیے کہ جس طرح ایک مرد جسیم کو کاٹ کر الگ پھینک دیا جاتا ہے اسی طرح ہم اس کو بھی کاٹ کر الگ کر دیں، اور اس جگہ کو دین کی خدمت کرنے والوں کے لئے ان سے خالی کروالیں اے منافق طبع لوگوں کی املات کرنے اور سیدنا حضرت امیرالمونین الصلح الموجو نے ار ماه نبوت ۱۳۲۸۵/ نومبر کو مقام خلیفہ وقت کو انکی اطلاع دینے کی تحر یک انبوہ ایک اہم خطبہ ارشاد فرمایا ج میں تحریک فرمائی کہ منافق طبع لوگوں کی اصلاح کی جائے اور خلیفہ وقت کو ایسے لوگوں کی اطلاع دی جائے۔نیز اس امر تفصیل سے روشنی ڈالی کہ طبقہ منافقین کے پیدا ہونے کے بنیادی وجوہ اور اسباب کیا ہیں چنانچہ فرمایا : ی طبقہ کہاں سے آتا ہے ؟ اس کے متعلق یاد رکھنا چا ہیئے کہ اس کی موٹی موٹی جگہیں یہ ہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے ، بعض لوگ دلائل ہیں کہ ایمان لے آتے ہیں لیکن جب ان سے قربانیوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو وہ ان کی برداشت نہیں کرسکتے۔مثلاً جب وہ نماز نہیں پڑھتے تو لوگ ان سے پوچھتے له الفضل ٦- انهاء ۱۳۵۲۸۵ / اکتوبر ۴۱۹۲۹ صفحه ۰۵:۴،۳