تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 361 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 361

۳۵۵ کی بکثر تقسیم کی جس کی وجہ سے شن کا دائرہ واقفیت بڑا وسیع تھا یہاں تک کہ ایک دفعہ پاکستانی ہائی کمشن کے فسٹ سیکریٹری مسٹر انور کے ایک لیے دورے کا انتظام ہوا تو جہاں بھی وہ گئے وہاں احمدی مبلغ کی تقریر کے مطالبہ کو پا کر وہ خوش ہوئے جو ان کے ہمسفر ہی تھا۔قرآن عظیم کی تعلیمات کو پھیلانے کی غرض سے قرآنی اسباق قرآنی اسباق کی وسیع اشاعت بذریعہ ڈاک بھیجوانے کا سلسلہ شروع ہوا جس پر حضرت المصلح الموعود نے خوشنودی کا اظہار کیا اور ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کو قرآن سے محبت ہے اس لئے اس سلسلہ کو بھاری رکھو“ چنانچہ یہ اسباق اتنے مقبول ہوئے کہ بعد میں کتابی شکل میں OF ISLAM کے نام سے شائع ہوئے اور میٹرک کے طلبہ کو اسلامیات کے مضمون میں اپنے حمد ثابت ہوئے کہ غیر مسلم طلبہ نے بھی اس کتاب کو پڑھ کر اس مضمون کا امتحان دیا اور اعلیٰ نمبر حاصل کر کے استحمان پاس کیا۔بعدہ اس کتاب کا تامل ترجمہ بھی بڑا مقبول ہوا۔احمدیہ کلام من کی اسلامی خدمات سے عوام الناس کے میشن کی اسلامی خدمات کا رو مکمل علاوہ خواص بھی متاثر ہوئے بغیرنہ روس کے نوجوان تو سکے۔بڑی کثرت سے احمدیہ لٹریچر کا مطالعہ کرنے لگے۔یہ بات بعض متعصب اور خود غرض علماء کو پسندند آئی تو ان میں سے ایک نے اپنی تقریر میں (جو سیلون ریڈیو سے نشر ہوئی ، جماعت احمدیہ پر کچھ جھوٹے از آنا عائد کئے جس کا فوری نوٹس اس شکل میں بھی لیا گیا کہ وزیر براڈ کاسٹنگ سے پارلیمینٹ کے ایک مہبر MP) CHELVAN AYA KAM نے ذیل کے چند سوال کئے جن کے جو جوابات پارلیمنٹ میں وزیر باد کا مشنگ نے دیئے تھے وہ ان کے سامنے درج ہیں :- سوال :۔کیا وزیر ڈاکخانہ جات اور براڈ کاسٹنگ کو علم ہے کہ 9 نومبر ۱۹۵۷ء کو سیلون ریڈیو نے ایک ایسی تقریر نشر کی ہے جس میں جماعت احمدیہ کے بانی حضرت احمد کو نا لائم اور نامناسب الفاظ میں یا د کیا گیا۔جواب: ہال سوال : کیا وزیر موسیہون کو یہ علم ہے کہ سیلون میں احمد یہ جماعت کے پیرو کار بکثرت ہیں۔جواب :۔ہاں