تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 354
۳۴۸ اخبار تھو دن چونکہ عرصہ سے بند ہو چکا تھا اس لئے احباب جماعت اسلامیہ سورین" کا اجراء کو روحانی غذا ہم پہنچانے کے لئے جماعت سیلون کے مخلص دوست اور عبدالمجید صاحب نے اسلامیہ سورین نامی رسالہ باری فرمایا۔چونکہ عبدالمجید صاحب ۱۹۱۵ء سے ہی جماعت کے اخبار تھوون سے وابستہ چلے آرہے تھے اس لئے اُن کی ادارت میں اس رسالہ نے جماعت کو تبلیغی و علمی میدان میں آگے بڑھانے میں بہت مدد دی۔پھر بعض احباب کی مالی مدد سے انہوں نے اسلام ہے سورین پریس بھی قائم کر لیا جس سے جماعت کے لڑیچر کی طباعت میں مزید آسانی پیدا ہوگئی کچھ عرصہ مفید کام کرنے کے بعد جب تھو دن دوبارہ جاری ہوا تو یہ رسالہ بھی تھو دن میں مدغم ہو گیا۔ظهور ۱۳۳۰ بهش / اگست ۱۹۵۱ء کو جماعت احمدیہ تحریک جدید کے سیلون مشن کا قیام سیلون ک تاریخ کا ایک نیا اور انقلاب انگیز دور شروع ہوا جبکہ سیدنا حضرت امیر المومنین المصلح الموعودہ کے حکم سے مولوی محمد اسمعیل صاحب منیر (مع اہلیہ) اس جزیرہ میں پہنچے اور تحریک جدید کے زیر انتظام مستقل مشن کی بنیاد رکھی مولوی صاحب تہ بیبا پونے سات برس تک سیلون کے طول و عرض میں نہایت جوش ، اخلاص اور متعدی سے اشاعت احمدیت میں سرگرم عمل رہے اور بالآخر جنوبی اور وسطی ہند کا طویل سفر کرتے ہوئے درشہادت ۱۳۳۷ ش / اپریل ۱۹۵۸ء کو ربوہ میں تشریف لائے۔آپ اگر چہ مقامی زبان سے واقف نہ تھے لیے ماحول سراسر اجنبی تھا۔ویزا صرف تین ماہ کا ملا تھا اور ایک ایسے نازک موقع پر مرکزہ کی طرف سے بھجوائے گئے تھے جبکہ جماعت سیلون اندرونی اور خارجی مشکلات سے دو چار تھی مگر خدا کے فضل اور حضرت مصلح موعود کی دعاؤں کی برکت سے انتہائی بے سروسامانی کے باوجود آپ کے دور میں اشاعت حق کے نئے سے نئے رستے کھلے اور آپ کی کوششوں میں غیر معمولی برکت ڈالی گئی۔جماعت احمدیہ سیلون نے آپ کے زمانہ قیام میں جو نمایاں خدمات سر انجام دیں ان میں سے بعض کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے۔جماعت سیلون کو ایک نظام سے منسلک کرنے کے جماعتی تربیت اصلاح کا نظام لئے پر سیلونی احمدی خاندان کے ہر فرد کے مختصر اور ه تبلیغی اور تربیتی تقاریر کے موقع پر اردو سے تال میں ترجمانی کے فرائض بھائی ہے بشیر احمد صاحب اور اسے۔ائیں محمود احد صاحب نے اور انگریزی سے تامل میں ترجمہ کے فرائض کی۔اسے احد صاحب اور اہم جمال الدین صاری نے انجام ہے