تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 349
سوم سر حسب ذیل ہے :- جناب من ! آپ کے خط مرسلہ 19 جولائی ۱۹۲۳ء بنام کا نوٹیل (COLONIAL ) سیکرٹری کے بارے میں جو مسلمان احمدی مبلغین کی پابندیوں کے متعلق تھا، مجھے آپ کو اس بات پر مطلع کرنے کی ہدایت ہوئی ہے کہ ہز ایکسی لینسی گورنر بہادر نے بخوشی حکم صادر فرمایا ہے کہ احمد سی سیلین کے سیلون میں داخل ہونے کے متعلق جو ممانعت تھی اس کو دور کیا جائے اور یہ کہ وہ حسب ذیل پابندیوں کے ساتھ سیلون میں داخل ہو سکتے ہیں : (1) تمام جلسے جس میں کہ یہ سکیمیں اپنے ایڈریس اور لیکچر دیں سیلوں کی احمدیہ جماعت کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے چاہئیں جو کہ سلیو آئی لینڈ کے شہر کو لمبو میں واقع ہے۔(۲) کوئی وعظ یا گلیوں میں جلسہ کرنے کی ان مبلغین کو اجازت نہ ہوگی۔(۳) اور ایسے تمام مشتری جزیرہ میں وارد ہونے کے بعد چوبیس گھنٹہ کے اندر اندر بذات خود حاضر ہو کر کالونیل سیکرٹری کے دفتر میں اپنے آنے کی رپورٹ دیں۔مشنریوں کو یہ شرائط منظور کرنا ہوں گی اور ایک تحریہ کالونیل سیکر ٹری کو دینی ہوگی کہ اگر وہ لوگ ان شرائط کی خلاف ورزی کریں گے تو ان کو اس مجرم میں جزیرہ سے فورا باہر نکل جانا ہوگا بشرطیکہ ان کو ایسا کرنے کا حکم دیا گیا۔لیکن ہوں آپ کا خادم۔اپنے۔آر۔بلڈ نائب کا لونیل سیکرٹری لے راس جزوی آزادی کے بعد سیلون کے احمدیوں کی تبلیغی جد و جہد میں نمایاں اضافہ ہوا اور مرکزہ کی طرت سے مولوی اے پی ابراہیم صاحب میلون شن کے انچارج مقرر کئے گئے۔سے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی تشریف آوری در اکتوبر ۱۹۴۷ کوحضرت مودی موڈ کے محبت صادق مدیر بندر اور احمدیہ سلم مشن اور جزیرہ میں احمدیت کا زبر دست چرچا امریکہ کے بانی حضرت مفتی حمد صادق صاحب سیلون میں تشریف لائے اور ہر نومبر ۱۹۲۷ء تک یہاں قیام فرمارہے گی حضرت مفتی صاحب کی آمد نے حقیر سے اخبار ٹائمز آن سیلون مورخه ۲۲ اگست ۱۹۲۳ء (جواله الفضل ار ستمبر ۱۹۲۳ م ) + سے یہ پورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء ص ۳ به س الفضیل ۲۱ اکتوبر ۱۹۴۷ء جنگ ه الفضل ١٨ / نومبر ١٩٢٧ء من :