تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 330 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 330

۳۲۴ سے بھی اختلاوہ تھا اور افسروں سے بھی اختلاف تھا جب اپنے بھائی کی وفات کے بعد وہ حکومت کے تخت پر بیٹھا تو اس نے محمد بن قاسم کو جو ایک فاتح جرنیل تھا اور جو ارادہ رکھتا تھا کہ حملہ کر کے بنگال تک چلا جائے معزول کر کے واپس آنے کا حکم دے دیا اور جب وہ واپس آیا تو اسے قتل کروادیا ورت مندوستان کا نقشہ آج بالکل اور ہوتا آج صرف یہاں پاکستان نہ ہوتا بلکہ سارا ہندوستان ہی پاکستان ہوتا جن ملکوں کو عربوں نے فتح کیا ہے ان میں اسلام اس طرح داخل ہوا ہے کہ کوئی شخص اسے قبول کرنے سے بچا نہیں۔غیر قو میں جو ہندوستان میں آئی ہیں ان کے اندر تبلیغی جوش نہیں تھا اس لئے انہوں نے چند علاقوں کو فتح کیا ہے۔وہاں کے رہنے والوں میں اسلام کی دشمنی بھی تھی، اسلامی تعلیم سے منافرت بھی تھی۔اور پھر ان فاتح اقوام کا سلوک بھی زیادہ اچھا نہیں تھا۔لیکن عرب تو اس طرح کچھ جاتا تھا کرد و وہ جس ملک میں جاتا اپنے آپ کو حاکم نہیں سمجھتا تھا بلکہ لوگوں کا خادم سمجھتا تھا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ تھوڑے عرصہ میں ہی سارے کا سارا ملک مسلمان ہو جاتا۔پس اگر اس زمانہ میں ہندوستان کو فتح کر لیا جاتا تو یقینا آج سند دوستان ایرانی اور مصر کی طرح ایک مسلمان ملک ہوتا کیونکہ وہ لوگ عربوں کا نمونہ دیکھتے تھے ، ان کی خدمت اور حسن سلوک کو دیکھتے تھے۔ان کی دیانت اور راستبازی کو دیکھتے تھے اور ان اخلاق سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے۔ان کے سامنے عرب اور غیر عرب کا سوال نہیں ہوتا تھا بلکہ صرف سچائی کا سوال ہوتا تھا وں کے بعد بغض اور کیتے آپ ہی آپ مٹ جاتے ہیں۔تمہارے باپ دادا کے یہ حالات سوائے تاریخ کے تمہیں اور کسی ذریعہ سے معلوم ہو سکتے ہیں، یہی چیز ہے جو تمہیں فائدہ پہنچا سکتی ہے ورنہ محض دو دو نے چار سے یعنی دو کو دو سے ضرب دی جائے تو چار حاصل ہوتے ہیں تمہیں کیا نفع حاصل ہو سکتا ہے لیکن اگر تم تاریخ پڑھو اور تم ذرا بھی عقل رکھتی ہو ذرا بھی جستجو کا نا وہ اپنے اندر رکھتی ہو تو تمہاری زندگی صنائع نہیں ہو سکتی۔مضمون تو میں نے اور شروع کیا تھا مگر میں رو میں ہر کہ کہیں کا کہیں چلا گیا۔یکں کہ یہ رہا تھا کہ کبھی زمانہ بدلتا ہے اور لوگ اس کے ساتھ بدلتے چلے جاتے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے ساتھ زمانوں کو بدل دیتے ہیں مسلمان قوم وہ تھی جو زمانہ کے ساتھ نہیں بدلی بلکہ زمانہ کو اس نے اپنے ساتھ بدل دیا۔وہ جہاں جہاں گئے انہوں نے لوگوں کو اپنے اخلاق کی نقل پر مجبور کر دیا، اپنے لباس کی نقل پر مجبور کر دیا ، اپنے تمدن کی نقل پر مجبور کر دیا اور وہ دنیا کے استاد اور رہنما تسلیم کئے گئے۔