تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 329 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 329

۳۲۳ نے کہا وہ کیا ہے۔اس نے کہا جب میں چلا ہوں تو ایک مسلمان عورت جو قید ہونے کے خطرہ میں تھی اور اس وقت تک قید ہو چکی ہوگی اس نے مجھے یہ پیغام دیا تھا کہ اسلامی خلیفہ اور عراق کے گورنر کو ہماری طرف سے یہ پیغام دے دیں کہ مسلمان عورتیں ظالم ہندوؤں کے ہاتھ میں قید ہیں اور ان کی عزت اور ان کا ناموس محفوظ نہیں ہے ہم مسلمان قوم سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ اپنے فرض کو ادا کرے اور ہمیں یہاں سے بچانے کی کوشش کرے۔کوئی ملک نہیں کوئی قوم نہیں دو یا تین عورتیں ہیں اور میں یا پچیس مرد نہیں جن کے بچانے کے لئے بعض دفعہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر بھی یہ کہہ دیتا ہے کہ میرے پاس سپاہی موجود نہیں یہ ایک معمولی واقعہ ہے اس کا حجاج پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہی حجاج جو یہ کہ رہا تھا کہ ہمارے پاس فوج نہیں ہم یورپ پر حملہ کی تیاری کر رہے ہیں وہ اس پیغام کو شنکر گھبرا کر کھڑا ہو گیا۔اور جب اس آنے والے آدمی نے پوچھا کہ اب آپ مجھے کیا جواب دیتے ہیں تو حجاج نے کہا اب کہنے اور سننے کا کوئی وقت باقی نہیں اب میرے لئے کوئی اور فیصلہ کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اب اس کا جواب ہندوستان کی فوج کو ہی دیا جائے گا چنانچہ اس نے بادشاہ کو لکھا اس نے بھی یہی کہا کہ ٹھیک فیصلہ ہے اب ہمارے لئے مشورہ کرنے کا کوئی موقع باقی نہیں۔اور اس فیصلہ کے مطابق مسلمان فوج سندھ کے لئے روانہ کردی گئی۔درمیان میں کوئی ہزار میل کا فاصلہ ہے یا اس سے بھی زیادہ۔اور اس زمانہ میں موٹروں کے ساتھ بھی اس فاصلہ کو آسانی کے ساتھ طے نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن بادشاہ نے حکم دیا کہ آپ مسلمانوں کی عزت اور ناموس کا سوال ہے بغیر کسی التواء کے جلد سے جلد منزل مقصود پر مسلمانوں کا پہنچنا ضروری ہے چنانچہ مسلمان و رمیان میں کہیں ٹھہرے نہیں۔انہوں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر رات اور دن سفر کیا اور بارھویں دن اس فاصلہ کو جو آج ریلیوں اور موٹروں کے ذریعہ بھی اتنے قلیل عرصہ میں طے نہیں کیا جا سکتا اپنی انتھک محنت اور کوشش کے ساتھ ملے کرتے ہوئے وہ ہندوستان کی سرحد پر پہنچ گئے۔اب تو تمہارا اپنا وجود ہی بتا رہا ہے کہ اس مہم کا نتیجہ کیا ہوا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آٹھ ہزار سپاہی جو بصرہ سے پہلا تھا اس آٹھ ہزار سپاہی نے دو مہینہ کے اندر اندر سندھ ، ملتان اور اس کے گردو نواح تک کو فتح کر لیا اور وہ قیدی بچائے گئے۔عورتیں بچالی گئیں۔اور سندھ کا ملک جس میں راجہ داہر کی حکومت تھی اسے سارے کا سارا فتح کر لیا گیا اور پھر مسلمان لشکر ملتان کی طرف بڑھا۔مگر بد قسمتی سے بادشاہ کی وفات کے بعد اس کا بھائی تخت نشین ہوا اسے ان لڑائیوں میں بادشاہ