تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 331
۳۲۵ آج مسلمان عورت یورپ کی بے پردگی کی نقل کر رہی ہے حالانکہ کبھی وہ زمانہ تھا کہ سلمان عورتوں کے پردہ کو دیکھ کر یورپ کی عورتوں نے پر وہ کیا چنانچہ ننز (NUNS ) کو دیکھ لو یورپ ایک بے پہ دملک تھا اور بے پردگی ان میں فیشن سمجھا جاتا تھا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان عورت پر وہ کرتی ہے تو بہت بعد تک انہوں نے بھی پر وہ لے لیا۔چنانچہ ننز (NANS) میں گو گو را پر وہ نہ ہو لیکن ان کی نقاب بھی ہوتی ہے نہ ن کی پیشانی بھی ڈھکی ہوئی ہوتی ہے اور ان کے ہم پر کبھی بھی ہوتا ہے جس سے ان کے تمام اعضاء ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں۔اور گو ہم اسے پورا اسلامی پر وہ نہ کر سکیں مگر نوے فیصدی پر وہ ان میں ضرور پایا جاتا ہے حالانکہ یہ وہ عورت تھی جو اسلام کے یورپ میں جانے سے پہلے منگی پھر تی تھی اور جیسے بندریا کو ایک گھگھری پہنا دی جاتی ہے اسی طرح انہوں نے ایک گھنگھری پہنی ہوتی تھی چنانچہ یورپ کی پرانی تصویر یں دیکھ لو عورتوں کے بازو ٹانگیں اور سینہ وغیرہ سب ننگا ہوتا تھا مگر جب مسلمان عورتوں کو انہوں نے پر وہ کرتے دیکھا تو انہوں نے بھی پردہ کے بہت سے حصوں کو لے لیا مگر یورپ اب پھر اسی پہلے زمانہ کی طرف جا رہا ہے اور مسلمان عورت بھی پردہ اُتار کر خوش ہوتی ہے کہ وہ یورپ کی نقل کر رہی ہے آج کی مسلمان عورت یہ کہتی ہے کہ ہم زمانہ کے ساتھ چلیں اور پرانی مسلمان عورت یہ کہتی تھی کہ زمانہ میرے ساتھ چلے۔یہ اپنی غلامی کا اقرار کرتی ہے اور وہ اپنی بادشاہی کا اعلان کرتی تھی کہ مجھے کیا ضرورت ہے کہ لیکن دوسروں کی نقل کروں لوگوں کا کام ہے کہ وہ میری نقل کریں۔غرض کیں کہ یہ رہا تھا کہ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے لئے تعلیم میں مشکلات تھیں، ایک عیسائی قوم ہم پر حاکم تھی اور مغربی تعلیم دلوانے میں ہمارے لئے مشکلات تھیں پس میکس اس بات پر زور دیتا تھا کہ ہماری لڑکیاں دینیات کلاس میں پڑھیں اور اپنا سارا زور نذہبی اور دینی تعلیم کے حصول میں صرف کریں۔اور شاید جماعت میں اکیلا ئیں تھا جو اس بات پر زور دیتا تھا ورنہ جماعت کے افسر کیا اور افراد کیا ان سب کی مختلف وقتوں میں یہی کوشش رہی کہ ہائی سکول کے ساتھ، ایک، بورڈنگ بنانے کی اجازت دے دی جائے تاکہ بیرونجات سے لڑکیاں آئیں اور وہ قادیان میں رہ کر انگریز تعلیم حاصل کریں۔اسی طرح اس بات پر بھی زور دیا جاتا رہا کہ لڑکیوں کے لئے کالج کھولنے کی اجازت دی بجائے مگر لیکں نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی لیکن آج میں اس زنانہ کالج کا افتتاح کر رہا ہوں۔یہ تیسری قسم کی چیز ہے نہ میں زمانہ کے ساتھ بدلا نہ زمانہ میرے ساتھ بدلا بلکہ خدا تعالی نے زمانہ میں ایسی خوشگوا