تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 319 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 319

۳۱۳ علیمہ اور اس کے اوپر علامہ اور اس کے اوپر ایک آخری انتہائی درجہ اکٹھا کر کے ) اس کا نام فقیہہ رکھا جائے۔۲ - شعبہ دینیات اور پنجاب یونیورسٹی کی تعلیم کو اکٹھا کر کے مخلوط نہ کیا جائے بلکہ دونوں کو الگ الگ رکھا جائے مگر کوشش کی جائے کہ شعبہ دینیات میں زیادہ سے زیادہ طالبات آئیں۔انگریزی کا کورس زیادہ رکھنا چاہئیے۔درجہ عالمہ پاس کرنے کے بعد طالبات میں اتنی استعدا و پیدا ہو جانی چاہیئے کہ وہ انگریزی سمجھ سکیں اور صحیح انگریزی بول اور لکھ سکیں۔م درجہ علیمہ میں بھی انگریزی کا مضمون رکھا جائے تا جو طالبہ چاہے ان درجوں میں انگریزی کو پڑھ سکے۔مضمون اُردو کے مقابل پر انتخابی ہو۔۔اردو میں پاس ہونا ضروری ہونا چاہئیے اور اپنی زبان ہونے کی وجہ سے اس پر زیادہ زور دینا چاہئیے۔درجہ علیمہ میں اُردو کو انگریزی کے ساتھ ALTERNATIVE رکھ دیا جائے تا جو اردو پڑھنا چاہے وہ اگر دو پڑھ سکے اور جو انگریزی پڑھنا چاہے وہ انگریزی پڑھ سکے۔تمام لازمی مضامین جی کا پڑھایا جانا ضروری قرار دیا جائے وہ در بہ علمیہ میں ختم کر دیئے جائیں۔در بعد علیمہ میں جو تمدن ، اقتصادیات، علم النفس (کے مضامین تجویز کئے گئے ہیں ان کی جگہ ایک مضمون علم التعریفات والاصطلاحات رکھا جائے اور اس میں صرف مذکورہ بالا مضامین ہی نہیں بلکہ تمام مزوری علوم حاضرہ کو شامل کیا جائے اور ہر علم کی تعریف اور مختلف کیفیت بتائی جائے۔اس کے لئے ایک فہرست RECOMANDED BOOKS کی تجویز کر دی جائے جو طالبات خود پڑھیں اور ان کے لئے ہر مضمون پر چھ سات لیکچر سال میں مقرر کر دیئے جائیں جن میں انہیں تمام نصا کے مضامین ضروری کی اصطلاحات اور تعریفات سمجھا دی بھائیں اور اس کے لئے ضروری ماخذ وغیرہ بتادیے جائیں۔انگریزی اور عربی اصطلاحات بھی حتی الوسع خطوط وسدا نی میں دیدی جائیں۔درجہ علامہ میں صرف دو مضامین رکھے جائیں جو ہر طالبہ مندرجہ ذیل مضامین میں سے خود اپنی پسند کے مطابق منتخب کر سکے (1) قرآن شریف (ب) حدیث (ج ) فقہ وتصوت (۱) کلام مشمول دینیات سے و علوم مناظرہ (ح) عربی (خم ) تاریخ (س) انگریزی۔یہاں ایک لفظ صحیح پڑھا نہیں گیا (ناقل)