تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 318
۳۱۲ صاحب ایم۔اسے (کینٹب) پر مشتمل کمیشن مقر فرمایا جس کی رپورٹ پر حضور نے قیمتی ہدایات دیں اور پھر حضور کی سکیم کے مطابق کلاس کی طالبات تعلیم وتربیت کے زیور سے آراستہ ہوتی رہیں۔ما و شهادت ها ( اپریل ۹۲) میں کلاس کے نصاب میں انقلابی تبدیلیاں عمل میں لائی گئیں جبکہ مجلس تعلیم نے حضرت مصلح موعود کی خصوصی ہدایت پر ایک نیا نصاب تجویز کیا اور حضور کے اصولی ارشاد کے ماتحت مشورہ دیا کہ شاخ دینیات کے کورس کو دو دو سال کے چار درجوں میں یعنی گل آٹھ سالوں میں پھیلا کم مقرر کیا جائے جس میں دینیات ، اُردو، عربی، انگریزی ، تاریخ ، تدبیر منزل و غیرہ مضامین رکھے جائیں۔دینیات کی تعلیم لازمی ہو اور اس پر زیادہ زور دیا جائے۔عربی کی تعلیم ابتدائی چھ سالوں تک لازمی ہو اور اس کے بعد اختیاری ہو اور انگریزی کی تعلیم صرف ابتدائی چار سالوں تک لازمی ہو تیجہ تعلیم کے معزز ارکان نے دو دو سال کے بچار درجوں کے بالترتیب حسب ذیل نام تجویز کئے۔در عبر صالحہ وجیہ اشده درجه عالمہ۔درجہ فاصلہ۔ہر درجہ میں دینیات کا کورس قرآن مجید - حدیث۔فقہ اور کلام کی کتابوں پر تمل تھا۔مجلس نے آخری درجہ میں پاس ہونے کے لئے ایک مفصل تحقیقی مضمون کا سپر و قلم کرنا بھی لازمی قرار دیا۔حضرت امیر المومنین المصلح الموعود کی خدمت میں جب مجلس تعلیم کے اس مجوزہ نصاب کی تفصیلی رپورٹ بغرض منظوری پیشی ہوئی تو حضور نے اپنے قلیم مبارک سے بعض ناگزیر اور ضروری ترمیمات کے ساتھ حسب ذیل فیصلہ فرمایا :- یکی نے مجلس تعلیم کا نصاب تجویز کردہ برائے شعبہ دینیات بمدرسہ بنات دیکھا ہے اس میں مندرجہ ذیل تبدیلیاں ہونی چاہئیں :- ا - درجات کے نام یہ ہوں: میٹرک کے مقابلہ پر درجہ حمیدہ۔اس کے اوپر عاملہ اور اس کے اوپر نے رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیه قادیان ۶۱۹۳۴ - ۶۱۹۳۵ کے اس غرض کے لئے صدر مجلس تعلیم حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی صدارت میں ۲۷ تبلیغ ۱۳۳۳ کو ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں حسب ذیل اصحاب نے شرکت فرمائی : - حضرت مولوی محمد دین صاحب تھی۔اسے ، خان بہادر چوہدری ابوالہاشم خان صاحب مولوی عبد المنان ما عمر کے حضرت سا جزادہ مرزا نا ما اخد صاحب۔پروفیسر عبد القادر صاحب مولوی سیف الرحمن صاحب مولوی ابو المنير نورالحق صاحب حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب وسرد (سیکرٹری سے تفصیلی نصاب اور اجلاس کی مفصل کاروائی مجلس تعلیم کے قدیم ریکارڈ ہی محفوظ ہے۔