تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 320
۳۱۴ ۹ درجہ فقیہ میں صرف ایک مضمون لکھنا ہو گا جس کا موضوع منظور کر دو جلس تعلیم ہوگا اور حسب شرائط مجلس تعلیم دو سال میں تحقیقات کرکے مکمل کرنا ہو گا نیز اس کے ساتھ اس مضمون کے متعلق مجوزہ کورس کا مطالعہ کرنا ہو گا دستخط حضرت خلیفہ اسیح الثانی مورخہ ۲۰ بیش ۱۳۲۲ اه شارخ دینیات کے اس جدید نظام کو عملی جامہ پہنانے کے لئے قادیان میں ایک کامیاب آغاز ہو گیا اور طالبات کی ایک معقول تعداد نے جن میں امتہ الرشید شوکت صاحبہ (اہلیہ ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ احمدیہ ) نصیرہ نزہت صاحبہ (اہلیہ حافظ بشیر الدین صاحب مبشیر ماریشیس و بلا د تربیه و افریقہ اور مبارکہ صاحبہ (اہلیہ حافظ قدرت اللہ صاحب مبلغ ہالینڈ انڈونیشیا ) بھی شامل ہیں قادیان کے اس دینیات کالج سے علیمہ کی سند بھی حاصل کی مگر جلد ہی ملک تقسیم ہوگیا جس کے بعد مرکز ربوہ میں اس شاخ کا احیاء عمل میں لایا گیا۔بدلے ہوئے اور نئے ماحول اور مخدوش حالات میں صرف چند جامعہ نصرت کا افتتاح طالبات نے اس میں داخلہ لیا جس پر الہ تعالی نے جماعت احمدیہ کے مخیتور آسمانی قائد اور اولوالعزم امام حضرت مصلح موعود کی توجہ کو اس طرف مبذول کر دیا کہ مرکز احمدیت ربوہ میں شاخ دینیات کو بند کر کے اس کی بجائے عورتوں کا کالج قائم کر دینے کا وقت آن پہنچا ہے۔چنانچہ حضور نے خالص اللی منشاء کے مطابق ھ مطابق ۱۹۵۱ء میں جامعہ نصرت کی بنیاد رکھی نے ماہ احسان کو اس کا اجراء عمل میں آیا اور اس کا افتتاح اپنے مقدس ہاتھوں سے ۱۲ار احسان منی کو فرمایا۔یہ مبارک تقریب سات بجے صبح شروع ہو کر ساڑھے آٹھ بجے اختتام پر یہ افتتاحی تقریب کا آغاز | ہوئی۔ربوہ کی احمدی خوانین کا ایک جم غفیر اس تقریب سعید کے موقع پر دعا کی غرض سے جامعہ نصرت میں جمع تھا حضور کی تشریف آوری پر کارٹی کی ایک طالبہ امتا نی بیگم صاحبہ نے تلاوت قرآن کریم کی۔ے ریکارڈ مجلس تعلیم به سه تاریخ لجنہ اماءاللہ پہلی جلد ۳۲ در قم فرموده حضرت سیده ام متین صاء به ظله العالی) نا بشر دختر مجنہ اماءاللہ مرکز یہ ربوہ سال اشاعت - دسمبر ۱۱۹۷۰ +