تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 315
۳۹ جام شہادت نوش کر کے مسجد کی عزت کے تحفظ پر اپنے نفسوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح قربان کر گئے۔ان حقائق کے پیش نظر کیا کسی کو یقین آسکتا ہے کہ مسلمانوں نے مسجد کو آگ لگا کر راکھ کر دیا ہو ؟ نہیں ہرگز نہیں۔مسلمانوں سے اس قسم کی توقع کا وہم وگمان بھی نہیں کیا جاسکتا۔البتہ ہمارے اعزاری بھائی جومسجد شہید گنج کے تحفظ کے لئے جانیں دینے والوں کو حرام موت مرنے والے کہتے تھے کسی مسجد کو آگ لگا کر راکھ کر دیں تو یه دور از قیاس امر نہیں۔خانہ خدا (مسجد) کو جلا کر راکھ کر دینے کے بعد احراری بھائیوں کا مقار خصوصی اخبار آزاد مسجد کو مرزائیوں کا گر جا کہ کہ اس خفت کو محو کر نا چاہتا ہے جو دنیا کی نظروں میں رہتی دنیا تک ہمیشہ ان کے شامل حال رہے گی لیکن اختلاف عقائد کی بناء پر دوسرے فرقہ والوں کی مسجد کو گرجا گھر کہ کر جلا دینے کا جو دروازہ کھولا گیا ہے قطع نظر آسمانی حکومت کی غداری کے کہ جینے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں گرجا اندر اور سجد وغیرہ ہر قسم کے عبادت گھروں کی یکساں تعظیم کا تاکیدی حکم دیا ہے ملک کے خرمن امن کو جلانے کا باعث ہوگا۔ذرا سوچئے کہ مرزائیوں کی مسجد کیوں جلائی گئی، اس لئے کہ علماء نے انہیں کا فر کہا ہے لیکن کیا علمی نے دیوبندی عقائد والوں کو کا فرنہیں کہا۔کیا ہمارے احراری بھائی جو عموما دیو بندی خیال کے ہیں بریلوی علماء احنات و اہل سنت و الجماعت کے فتاوای کفر بھول گئے اور کیا انہیں معلوم نہیں کہ مذہبی طور پر تحتِ اسلامیہ کا کوئی گروہ اور فرقہ ایسا نہیں ہے جس پر گھر کا فتویٰ نہ لگایا گیا ہو۔یہاں تک کہ مفتیان عرب شریف بھی اس ثواب میں برابر کے شریک ہیں۔شمس العلماء مولانا حالی حیات جاوید میں سرسید مرحوم پر اس قسم کے فتاوی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مکہ معظمہ کے اربعہ مذاہب کے مفتیوں کے فتاوی کا خلاصہ لکھتے ہیں کہ " یہ شخص ( سرسید مرحوم ، مال اور معضل ہے بلکہ ابلیس لعین کا خلیفہ ہے۔اس کا فتوی کیو دو نصاری کے فتنہ سے بھی بڑھ کر ہے۔بخدا اس کو سمجھے۔ضرب اور مبس سے اس کی تادیب کرنی چاہئیے یا ہم آخر میں حکومت اور عوام دونوں کو اس طرف پوری توجہ دلاتے ہوئے اپیل کر دیں گے کہ اس شتر کو جلد سے جلد ختم کرنے کے لئے کوئی موثر اقدام کریں ورنہ پاکستان کے لئے یہ چنگاری کہیں انگ ثابت نہ ہو جس کا بجھتا ہے بعد محال مشکل ہو گا " بالآخر یہ بتانا ضروری ہے کہ احراریوں کا چالان ہوا۔سزا ہوئی اور ہائی کورٹ سے قرارداد مجرمیت قائم رہی اور ہائی کورٹ نے مبلغ چار صد روپیہ جرمانہ کی سزاد یگر یہ روپیہ پریذیڈنٹ انجمن احمدیہ کو ادا کرنے کا حکم دیا۔