تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 314
۳۰۸ کچھ عرصہ سے حکومت پاکستان کو پاکستان کی دیرینہ دشمن اور مخالف جماعت مجلس احرار کے ارکان نے یہ یقین دلانے کی ناکام کوشش کر رکھی ہے کہ مجلسی احتمالہ کی سیاسی پالیسی بالکل ناکام ہو چکی ہے اس لئے وہ لوگ جو کل تک یہ اعلان کیا کرتے تھے کہ ہندوستان میں کوئی ایک بھی ایسا مسلمان موجود نہیں ہے جو پاکستان کا قیام تو در کنار پاکستان کی صرف پ ہی بنا کر دکھاوے لیکن آج جبکہ خدا کے فضل و کرم سے پاکستان کا قیام ہی عمل میں نہیں آیا بلکہ دنیا کی بہترین طاقتور حکومتوں میں سے ایک اعلے پایہ کی حکومت کے طور پر شمار ہونے لگا ہے تو دشمنان پاکستان کی تحریک پر پاکستان کی بعض ایسی جماعتوں نے جو ہمیشہ مشرکین اور کفار کی سٹیج سے تحریک پاکستان اور قیام پاکستان اور بانی پاکستان کے خلاف ذلیل قسم کے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں اور بانی پاکستان حضرت قائد اعظم مرحوم و مغفور کو عام جلسوں میں نعوذ باللہ کا فراعظم کے خطاب سے نوازتے رہے آج وہی لوگ حکومت پاکستان کو دھوکہ دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں کے مختلف فرقوں میں منافرت پھیلا کہ آپس میں سر پھٹول کرانا اپنا شیوہ بنا چکے ہیں جیسا کہ ضلع لائل پور کی ایک مسجد کو آگ لگا کر تماشا دکھایا گیا ہے۔عبادت گاہ خواہ کسی کی ہو ہر لحاظ سے قابل احترام ہے۔مرزائیوں سے ہمیں بھی مذہبی اور عقیدہ کے لحاظ سے احراریوں سے زیادہ اختلافات ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ان کی عبادت گاہوں کو آگ لگا کر جلا دیں۔ہمارے عقیدہ کے مطابق کوئی مسلمان اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ حضور نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ کو خدا کا آخری نبی اور سچا نبی نہ مانیں کچھ عرصہ ہوا امپرومنٹ ٹرسٹ کا پور نے سڑکوں کی فراضی کی سکیم کے پیش نظر کا نہور کی ایک معبد کا پیشاب خانہ گرا دیا توطول و عرض ہند میں مسلمانوں نے پر زور احتجاج کیا اور اتنازبردست پروسٹ کیا کہ اس عظیم سانحہ کا ذکر کئے بغیر بتر عظیم ہند کی تاریخ مکمل نہیں کی جا سکتی۔پھر ابھی کل کی بات ہے کہ لنڈے بازار میں صدہا مسلمان ظفر الملت حضرت مولانا ظفر علی خاں کی زیر قیادت مسجد شہید گنج کے تحفظ کے لئے زخموں سے چور خاک و خون میں لت پت ہو کر تڑپ رہے تھے اور اس حالت میں ان کی لاٹھیوں اور گولیوں سے زخمی جسموں پر گھوڑ سوار دستے سرپٹ دوڑائے گئے تھے لیکن مسجد کے عاشق مسلمان کا پائے ثبات ڈگمگا نہ سکا۔ہزاروں مسلمان زخمی ہوئے اور بیشمار