تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 275
کے باعث حضرت سیدہ اقم متین صاحبہ منظله العالی سے کھوائے تھے اور نیچے اپنے دستخط ثبت فرما دیے تھے۔اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم : نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود هو الذ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ اصر کتنے بدقسمت ہیں وہ لوگ جن کے مکان سونے کی کانوں پر بنے ہوئے تھے لیکن ان سونے کی کانوں سے فائدہ غیر ملکی لوگوں نے اٹھایا مگر ان سے بھی زیادہ بد قسمت ہیں وہ لوگ جو تعلق باللہ کی سرنگ پر حیران بیٹھے ہیں غیر قومیں آئیں گی اور اس سرنگ کے ذریعے سے خدا تعالی تک پہنچیں گی، بعض انسان کتنا بد تمت ہوتا ہے " مرزا محمود احمد کام سے پریس احراری فتنہ نے جہاں عوامی فضا کو بہت مسموم اور جماعت احمدی اور مغربی پاکستان پری زارا اور کیا ان غریب پاکستان کاشت ولی پریس زہر آلو و وہاں محب وطن بھی آئی کے اثرات کی لپیٹ میں آگیا تاہم معض اخبار گا ہے گا ہے حق و انصاف کی خفیف سی آواز بھی بلند کرتے رہے۔اس سلسلہ میں پنجاب کے روزنامہ آفاق“ اور پشاور کے ہفت روزہ تنظیم کے نوٹ یہاں درج کئے جاتے ہیں تا اُس دور کے غیر جانبدار اور سنجیدہ صحافت کا نقطہ نگاہ بھی سامنے آ جائے۔(1) اخبار آفاق" (لاہور) نے 14 جولائی 19 مہ کی اشاعت میں پروفیسر محمد سرور صاحب کا حسب ذیل مضمون شائع کیا :- ہمارا یہ اصرار کہ مملکت پاکستان کا دستوری اساس جمہوری ہو اور پاکستان دستور ساز اسمبلی کی منظور کردہ قرار داد مقاصد کے الفاظ میں مملکت تمام حقوق و اختیارات کو عوام کے منتخب کر وہ نمائندوں کے ذریعے کام میں لائے۔۔۔۔(کیونکہ) خدا نے اختیارات سوائے جمہور کے کسی اور کو تفویض نہیں کئے ہیں اور اس کا فیصلہ خود ہمہور له الفضل ۱۳ جولائی ۱۹۵۰ ص۳ I |