تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 276 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 276

کے سپرد ہے کہ اس اقتدار کو کن لوگوں کے ذریعے استعمال کیا بجائے " اور یہ اس لئے جیسا کہ اس قرار داد مقاصد میں وضاحت کر دی گئی ہے۔ہے جمہور ہی اختیارات کی امانت کے حامل ہیں اور انہی کو اختیارات کو استعمال کرنے کا مجاز ٹھرایا گیا محض پاکستان کے عوام کی بہبودی کے پیش نظر ہے اور چونکہ ان عوام کی غالب اکثریت مسلمان ہے اس لئے جو نظام حکومت ان کی بہبودی کا ضامن ہوگا اور بہبودی سے ہماری مراد صرف پیٹ پالنے کی آسٹو گی نہیں بلکہ اُن کی معنوی اور روحانی فلاح بھی ہے اُت غیر اسلامی کہنا صحیح نہیں۔ہمارے نزدیک حکومت کے نظم ونسق کو جمہور کے سامنے جواب دہ ماننا اور اسے جمہور کے تاریخ بھنا اسلام کے منافی نہیں اور اسی کا نام سیاسی زبان میں جمہوریت ہے اور پھر جب ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت ندایی حکومت نہ ہو تو مذہب سے ہماری مراد اصلا مذہب نہیں ہوتا جو کہ انسانیت کا جوہر ہے اور میں کے بغیر انسان انسان نہیں بلکہ حیوان ہو جاتا ہے۔در اصل مذہبی حکومت سے ہمارا مطلب کسی مذہبی طبقہ کی حکومت ہے اور اسی کے ہم خلاف ہیں اور اسے اس زمانہ میں انسانیت کے لئے سب سے بڑا روگ سمجھتے ہیں۔مثال کے طور پر ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان میں احمدی فرقے کی حکومت ہو، نہ ہم اس کے روادار ہیں کہ شیعیت پاکستان کا سرکاری مذہب ہو۔اسی طرح جماعت اسلامی اسلامی نظام کی جو تعبیر کرتی ہے وہ بیثیت ایک مذہبی فرقے کے اُس کی تعبیر ہے اُسے اسلام کا نام دیا اور اسلام اور اس کے پیش کردہ نظام کو مترادف سمجھنا صحیح نہیں۔یعنی جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اسلام جاگیر داری کا مخالف نہیں یا یہ کہ ہماری حکومت میں ذمی یعنی غیر مسلم کو ووٹ کا حق نہیں ہو گا۔اسی طرح وہ سمجھتی ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم مسلمان ہو جائے تو بہت اچھا لیکن اگر ہماری حکومت میں کوئی مسلمان مرتد ہو گا اور یاد رہے کہ مرتد کی تعریف وہی ہوگی جو یہ جماعت کرے گی ) تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔اس طرح آج اس زمانے میں جماعت اسلامی کا غلام اور لونڈی بنانے کی اجازت دینا اور اسے اسلامی نظام سمجھنا یہ سب باتیں مسلمانوں کی ایک مخصوص مذہبی جماعت کی فقہی تعبیریں ہیں اور انہیں پاکستان کا دستوری اساس نہیں بنایا جا سکتا۔اس کو ہم اصطلاحاً مذہبی