تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 269 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 269

۲۶۴ سے زیادہ محسوس کرنا چاہیے سب سے پہلے فرض کا محسوس کرنا ان مرکز بی انجمنوں پر عائد ہوتا ہے جو اس کام کے لئے مقرر ہیں امینی صدر انجین احمدیہ اور تحریک جدید اور پھر صدر انجمن احمدیہ اور تحریک تجدید کے ناظر اور وکلاء یعنی جن اعضاء سے یہ دونوں انجمنیں بنتی ہیں ان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے۔اور پھر ان سے اتر کر دوسرے کا رکن جو ان کے ماتحت ہیں ان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے۔ان کے علاوہ نہایت ہی اہم طور پر فرض جماعت کے علماء پر عائد ہوتا ہے جو نذہبی خیالات اور اخلاقی معیاروں کے لئے ایک راہنما کی حیثیت رکھتے ہیں اور ایک نمونہ کی شکل میں دیکھے جاتے ہیں۔ان سب کو یا درکھنا چاہئیے کہ بڑے کاموں کے لئے دماغ کا ہر وقت کام میں لگائے رکھتا ضروری ہوتا ہے اور یہی وہ عادت ہے جس کے ماتحت کوئی شخص کسی بڑے کام کے قابل نہوسکتا ہے۔" انبیائے کرام کو ہم دیکھتے ہیں کہ رات دن وہ اپنی قوم کی اصلاح و بہبودی کے فکر میں لگے رہتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نسبت فرماتے ہیں کہ میں سوتے ہوئے بھی جاگتا ہوں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ سوتے ہوئے واقعی جاگ رہے ہوتے تھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لیکن سونے لگتا ہوں تب بھی قوم کی اصلاح و بہبود کے لئے سوچ رہا ہوتا ہوں اور جب جاگنے لگتا ہوں اس وقت بھی تیرا د باغ انہی افکار میں مشغول ہوتا ہے۔گویا آپ کا یہ دعوی تھا کہ میں چوبیس گھنٹے قوم کی ترقی و اصلاح کے کاموں اور ان کے صحیح طور پر سر انجام پانے کی تشکر میں لگا رہتا ہوں۔حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میکی و نماز پڑ تا رہا ہوتا ہوں اور اسلامی لشکر بھی تیار کروا رہا ہوتا ہوں۔اب بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ حضرت رای نماز سے غافل ہوتے تھے اور وہ ایسا کام کرنے لگ جاتے تھے جس کا نماز کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا تھا۔آپ فرماتے ہیں اُصَلّى وَاجَهَرُ الْجُيوش میں نماز پڑھتا ہوں اور ساتھ ساتھ لشکر کی تیاری میں بھی لگا رہتا ہوں۔یہ کیفیت نا تجربہ کار اور جاہل لوگوں کے لئے واقعی ٹھوکر کا موجب ہوسکتی ہے وہ سمجھیں گے کہ پھر نماز کیا ہوئی لیکن واقف کار جانتا ہے کہ منکر کا ایک مقام ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ایک وقت میں دو دو تین تین کاموں میں مشغول رہتا ہے نماز بھی پڑھ رہا ہوتا ہے اور قوم کے کاموں میں بھی مصروف ہوتا ہے۔مجھے کئی دفعہ لوگ ملنے کے لئے آتے ہیں میں بعض کا غذات دیکھ رہا ہوتا ہوں وہ خاموش ہو جاتے ہیں تائیں اپنے کام سے فارغ ہو جاؤں لیکن یکں انہیں کہتا ہوں کہ بات کریں میں آپ کی بات بھی سُنتا جاؤں گا اور اپنا کام بھی کرتا جاؤں گا اور یہ چیز میرے لئے ممکن ہوتی ہے لیکن