تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 268 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 268

ہوا ہے، اگرتم ایسا ثابت کر دو تو فوراً ایک ہزار روپیہ میں تم کو انعام دوں گا اور جھوٹ بولنے کی ذلت مجھے الگ نصیب ہوگی۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہند و مسلمان میں اختلاف انتہاء کو نہیں پہنچا میری کوشش تھی کہ کسی طرح کی تقسیم نہ ہو اور اس کے بارہ میں میں نے اپنے ذاتی خیالات کئی دفعہ ظاہر کئے تھے مگر کوئی الہام شائع نہیں کیا مگر جب مئی 1914ء میں یہ بات ظاہر ہو گئی کہ اب یہ اختلاف مٹائے نہیں مٹ سکتا لیکں نے اپنی رائے بدل لی اور پورے زور سے پاکستان کی تائید شروع کر دی۔چنانچہ تقسیم ملک سے پہلے ہی میں نے پاکستان کی تائید میں لکھنا شروع کر دیا جو الفضل اور دوسرے احمدی لٹریچر میں موجود ہے۔اور اس وقت جب احراری اس امر کی کوشش میں تھا کہ پاکستان کی پ بھی نہ لکھی جائے لیکں اس امر کی تائید میں تھا کہ پاکستان سب کا سب مکمل ہو جائے اور خدا تعالیٰ اسے عزت اور شان کے ساتھ قائم رکھے۔اگر مجھے کوئی الہام ہوا ہے تو یہی کہ اللہ تعالیٰ اسلام کو عزت بخشے گا اور مسلمان ذلیل ہو کہ دشمن کے سامنے نہیں گرے گا بلکہ قدم یہ قدم آگے بڑھے گا مشکلات ہوں گی عارضی طور پر قدم پیچھے بھی ہٹیں گے لیکن انجام اچھا ہی ہوگا۔اسلام کے لئے اب فتح مقدر ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا اب بلند ہو کر رہے گا اور احراری یا دوسرے لوگ اسے نیچا نہیں کرسکیں گے۔انشاء اللہ۔خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیه را d جماعت احمدیہ کی مرکزی تنظیموں اور تحریک عورت ایک عالی ترک ہے جس کے احمدیت تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے یوں تو جماعت علماء سلسلہ کو احساس ذمہ داری کی تلقین کے ہر فر کو بین الاقوامی ذہن پیدا کرنے اور اس کے مطابق اپنے فرائض کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہے مگر جماعت احمدیہ کی مرکز می تنظیموں اور علماء سلسلہ پر تو اولین فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے مقام کو سمجھیں اور فرض شناسی کا ثبوت دیں۔حضرت مصلح موعود نے خطبہ جمعہ (۲۸ شہادت / اپریل ) میں اس نکتہ کی طرف اس سال بھی بڑی وضاحت سے توجہ دلائی اور فرمایا :۔یں نے مدت سے جماعت کو اس طرف توجہ دلانی شروع کی ہے کہ اسے اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ له الفضل و رانان ۱۳۲۹۵ مارچ ۱۹۵۰ ص۰۳ *