تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 259
۲۵۱۳ ام وفات فتح ۱۳۳۲۹ / دسمبر ۹۵) - خواجہ صاحب کشمیر میں احمدیت کی جیتی جاگتی تصویر تھے یا کہ میں اپنے والد میاں حبیب اللہ صاحب کے ساتھ قادیان دارالامان میں گئے اور تعلیم الاسلام ہائی سکول میں داخل ہوئے اور میٹرک تک تعلیم بھی اس مرکزی ادارہ سے پائی اور حضرت مهدی موعود علیہ السلام کی بابر کت مجالس میں بھی شامل ہوئے۔آپ کی مستعد و چشم دید روایات حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی کتاب سیرت المہدی حصہ دوم و سوم میں درج فرمائی ہیں ہے۔فسادات کے بعد حضرت مصلح موعود نے خواجہ صاحب موصوف کو مقبوضہ کشمیر کی تمام احمدی جماعتوں کا پہلا امیر مقرر فرمایا اور آپ اس قومی خدمت کی بجا آوری کے لئے صبح و شام سرگرم عمل ہو گئے۔جماعتی کاموں کے سلسلہ میں آپ مختلف جماعتوں کا دورہ ختم کر کے سرینگر پہنچے تو ہمار ہو گئے اسی حالت میں اپنے گاؤں آسنور لائے گئے اور ڈیڑھ ماہ بعد واصل بحق ہو گئے بیٹے حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے آپ کی وفات پر حسب ذیل نوٹ لکھا :- یکن اس عزیز کو اُس وقت سے جانتا تھا جب کہ وہ چھوٹی عمر میں قادیان کے ٹی آئی ہائی سکول یں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔لیکن اُس وقت اس سکول کا ہیڈ ما سٹر تھا اور خواجہ صاحب مرحوم سکول کے بورڈنگ میں رہتے تھے بلحاظ اسکول اور اور ڈنگ کا افسر ہونے کے مجھے ان کے حالات اور اخلاق دیکھنے کا بہت اتفاق ہوتا رہا۔مرحوم ایک نہایت ہی نیک اور شریف طالب علم تھے کبھی کسی کے ساتھ اُن کا کوئی جھگڑا نہ ہوا۔اپنے استادوں کا اتنا ادب کرتے تھے کہ سب اُن سے خوش رہتے تھے۔اس کے بعد جب وہ اپنے وطن جا کہ ملازم ہو گئے تب بھی اُن سے خط و کتابت کا سلسلہ بھاری رہا سلسلہ احمدیہ کی صداقت کا ان کو طبعاً ایک جوش تھا اور نہایت اخلاق کے ساتھ وہ دوسروں پر اپنا نیک اثر ڈالتے تھے خدا تعالیٰ کی توحید اور محمد صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت اور حضرت مرزا صاحب کی مسیحیت اور حد و تیت پران کو صدق دل سے ایمان تھا اور اُن کی طبیعت میں یہ جوش تھا کہ خدا تعالیٰ کی توحید کشمیر میں اور تمام ملکوں میں پھیل جائے اور قائم ہو جائے اور سب لوگ مشرک کو ترک کر کے توحید پر قائم ہو جائیں۔انکی " سه سیرت المہدی حصہ دوم صفحه ۲۸-۲۹ - ۳۰ ، حصہ سوم صفحه ۲۴ - ۳۰-۳۲-۶۸-۱۷۱ ۵۲ الفضل ۲۶ دسمبر نشان مش مضمون خواجہ عبد الغفار صاحب ڈار سابق ایڈیٹر اخبار اصلاح سرینگر حال راولپنڈی)