تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 258
۲۵۳ اکر فرمایا کرتے تھے کہ میں مدت سے مسیح موعود اور مہندی محمود کی آمد کا منتظر تا کیونکہ مجھ تقسیم ہوئی تھی کہ یہ زمانہ امام الزمان کے نزول کا مقتضی تھائیں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مسیح موعود علیہ السلام کا ظور میری زندگی میں ہوا اور ان کو مت بول کرنے کی توفیق ملی۔رت جلیل کے قائم کر وہ پاک سلسلہ میں شامل ہونے کے بعد آپ پر مصائب کے بادل چھا گئے اور آپ کو زمانہ دراز تک دنیا وی مشکلات اور صعوبتوں کو برداشت کرنا پڑا مگر آپ ہر ابتلاء پرتاب قدم رہے اور ہر فتنہ کے موقع پر نہ صرف یہ کہ آپ خود ایک مضبوط چٹان کی طرح حق و صداقت پر قائم رہے بلکہ اپنے وعظ و تبلیغ کے نتیجہ میں قریباً دو سو اشخاص کو تحریک احمدیت سے وابستہ کرنے میں کا میاب ہوئے۔حضرت مولوی صاحب یہ ایک عالم متجر تھے۔قرآن کریم سے ۱۱ کو مشق تھا اور مندر تھا ہم نے محض اپنے فضل و کرم سے ان کو فہم قرآن کا ایک خاص ملکہ عطا فرمایا تھا مشکل سے مشکل مقامات کو دعاؤں کے ذریعہ حل کر لیتے تھے اور سلسلہ کے بعض بزرگوں کی تفاسیر سے توارد ہو جاتا تھا۔سلسلہ عالیہ کی کوئی کتاب ایسی نہیں جو انہوں نے مطالعہ نہ کی ہو۔عمر کے آخری دو سال میں آپ کی بینائی بالکل کمزور ہو گئی تھی اور مطالعہ نا ممکن ہو گیا تھا پھر بھی اخبارات سلسلہ اور تازہ تالیفات و تصنیفات اپنی بیٹیوں سے شنا کرتے تھے۔درثمین سے تو آپ کو ایک بے نظیر عشق تھا۔بھارت کی کمزوری کے اس زمانے میں بھی درثمین آپ کے تکیہ کے نیچے رکھی رہتی تھی۔آنکھوں پر زور ڈال کر اشعار یاد کرنا آپ کا محبوب شغل تھا۔اکثر فرمایا کرتے تھے کہ دو تین میری کمزوری کے لئے ٹانک اور میری بیماری کے لئے دوا اور روحانی غذا ہے۔آخری دنوں میں بار بار وقت پوچھا کرتے تا کوئی نماز فوت نہ ہو جائے یہاں تک کہ آخری رات تہجد اشارے سے پڑھی۔آپ رویا صالحہ کی نعمت سے بھی مستفیض تھے اور تعبیریں بتایا کرتے تھے اور صاحب المام بھی تھے گو وہ اپنے الہاموں کو ظاہر کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ماہ ۱۰ زیارت خواجه عبدالرحمن صاحب این افسر امیر جماعت احمد کشمیر اسنوا - البيان له الفضل سور اخاء ۱۳۲۹ / اکتوبر ۱۹۹۰ مگ هـ