تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 232 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 232

۲۲۷ تھا کہ کرسی کی درخواست پر اسے جھاڑ پڑی ہے انہوں نے خیال کیا ایسا نہ ہو کہ مولوی صاحب کو یہاں بیٹھے دیکھ کر صاحب ہم پر ناراض ہو انہوں نے اس کرسی پر سے بھی انہیں جھڑک کر اٹھا دیا مولوی مصلحب وہاں سے بھی ذلت کے ساتھ اُٹھ کر باہر چلے گئے۔عدالت کے باہر ہزاروں آدمی مقدمہ کی کارروائی سننے کے لئے کھڑے تھے۔ان میں سے بعض تو یہ دعائیں کر رہے تھے کہ اسے خدا ! اسلام کے پہلوان کو عیسائیوں کی طرف سے دائر شدہ مقدمہ میں بری کر دے۔اور کچھ لوگ مخالفت کی وجہ سے وہاں جمع تھے تا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام سرا پاکر باہر نکلیں تو وہ خوشی کے شادیانے بجائیں۔ان لوگوں میں سے بعض تو زمین پر بیٹھے تھے اور کچھ چادریں بچھا کر ان پر بیٹھے ہوئے تھے مولوی صاحب نے اپنی شب کی چھپانے کے لئے مناسب سمجھا کہ کسی چادر پر ہی بیٹھے جائیں تاکہ باہر کے لوگ یہ جھیں کہ انہیں اندر بھی کر سی ملی ہو گی۔انہوں نے ایک چادر کا کنارہ کھینچا اور اس پر بیٹھ گئے لیکن ان کا بیٹھنا ہی تھا کہ چادر کے مالک نے کہا اٹھ اٹھ تو نے میری چادر پلید کر دی ہے مسلمان ہو کہ اسلام کے ایک سپاہی کے خلاف عیسائیوں کی تائید میں گواہی دینے آیا ہے۔غرض عیسائیوں کی مخالفت انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی لیکن پھر بھی ہم تو انگریزوں کے ایکنیٹ ہیں اور یہ ان کے مخالف۔یہ مربعوں کی درخواستیں دیں اور ملازمتیں حاصل کرنے کے لئے انگریزوں کی خوشا میں کرتے پھر میں تو پھر بھی انگریزوں کے مخالف ہیں لیکن ہم جن پر انگریزوں نے متقدمات کئے ان کے ایجنڈے ہیں۔غرض سہتے افسر آئے وہ سارے کے سارے ہمارے نے خالف رہے۔صرف میرے زمانے میں ایڈوائزر پر یہ اثر ہوا کہ احمدیوں سے جو برتاؤ کیا جارہا ہے وہ کسی غلط فہمی کی بناء پر ہے۔وہ ہمیشہ ہمیں عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور ہر مجلس میں کہنا تھا کہ احمدیوں سے جو سٹوک روا رکھا گیا ہے وہ درست نہیں لیکن ایمرسن کے زمانہ میں پھر انگریز حکام ہمارے خلاف ہوگئے اور یہ مخالف جنس کے زمانہ تک جاری رہی۔آخر بتاؤ وہ کونسی چیز ہے جس کی وجہ سے ہمیں انگریزوں کا ایجنٹ کہا جاتا ہے۔کیا یہ ہماری انگریز دوستی کی علامت ہے کہ وہ میں کرمنل لاء امنڈ منٹ ایکٹ کے ماتحت مجھے نوٹس دیا گیا کہ تمہیں اپنی حفاظت کے لئے باہر سے احمدیوں کو بلانے کی بھی اجازت نہیں۔اور یہ نوٹس مجھے گیارہ بجے رات کو دیا گیا اور پھر چار پا پولیس افسر، دو سپرنٹنڈنٹ پولیس اور ایک ڈپٹی کمشنر اس لئے قادیان بھیجے گئے تاکہ تلواروں کی لوگوں کے نیچے مولوی عطاء اللہ صاحب بخاری تقریر کریں۔اس سے کیا ظاہر ہوتا ہے آیا یہ کہ انگریز احمدیوں کا