تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 231
۲۲۶ مذہبی آدمی ہیں اور ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں یہ مناسب نہیں کہ ان کے نام وارنٹ گرفتاری جاری کیا جائے۔اگر انہیں بلانا ضروری ہے تو کوئی آدمی بھیج کر انہیں بلا لیا جائے۔انہوں نے مشورہ مان لیا اور گورداسپور سے حضور کے نام نوٹس جاری کر دیا گیا کہ آپ بٹالہ میں پیش ہوں اور پولیس کے ایک افسر جلال الدین یہ نوٹس لے کر قادیان آئے جب آپ عدالت میں پیش ہوئے تو آپ کو دیکھتے ہی ان کے دل کی کایا پلٹ گئی اور انہوں نے عدالت کے چبوترے پر گریسی بچھا کر آپ کو عزت کے ساتھ بٹھایا۔ولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تو اس بات کے حریص تھے کہ آپ کو سہتھکڑیاں لگی ہوئی دیکھیں۔ان کا خیال تھا کہ مقدمہ کرنے والا انگریز ہے، فیصلہ کرنے والا انگریز ہے اوریکی اہلحدیث کا ایڈووکیٹ بطور گواہ جارہا ہوں اب تو مرزا صاحب کو ضرور پھانسی کی سزا ہوگی۔وہ اس دن ایک بڑا جبتہ پہن کر عالمانہ شان ہیں آئے اور سمجھتے تھے کہ مرزا صاحب کو مہتھکڑیاں لگی ہوئی ہوں گی اور یکں انہیں دیکھ کر مسکراؤں گا۔مگر جب عدالت میں آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بجائے ہتھکڑی لگنے کے اعزاز کے ساتھ مجسٹریٹ کے پاس کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھا مولوی صاحب آپ کا یہ اعزاز دیکھ کر جل گئے دیدہ مولوی صاحب جو تھیسائیوں کی تائید میں گواہی دینے کے لئے عدالت میں آئے تھے انہیں تو انگریزوں کا دشمن کہا جاتا ہے اور مرزا صاحب جن پر انگریزوں نے قتل کا مقدمہ کھڑا کیا تھا انہیں انگریزوں کا دوست قرار دیا جاتا کیلئے ) مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے عدالت میں آتے ہی آگے بڑھ کر مجسٹریٹ سے کہا مجھے بھی کرسی دی جائے۔ڈپٹی کمشنر میران ہوا کہ کیا یہ ملاقات کا کمرہ ہے کہ کرسی مانگی جارہی ہے۔اُس نے کہا تم کون ہو مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی نے کہا ئیں اہل حدیث کا ایڈووکیٹ ہوں اور مشہور مولوی ہوں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا تم گواہی دینے آئے ہو ملاقات کرنے نہیں آئے پھر کر سی کا مطالبہ کیسا ؟ مولوی محمد حسین صاحب نے کہا اگر عدالت میں مجھے کرسی نہیں ہل سکتی تو مرزا صاحب کو کیوں کرسی دی گئی ہے ، ڈپٹی کمشنر نے کہا ان کا نام خاندانی کرسی نشینوں میں ہے۔مولوی صاحب نے کہا تجھے بھی کرسی ملتی ہے اور میرے باپ کو بھی کریسی ملتی تھی۔لیکن جب لاٹ صاحب کو ملنے جاتا ہوں تو وہ مجھے کرسی دیتے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا تک ایک امت کہ پیچھے ہٹ اور سیدھا کھڑا ہو جا۔یہ سنتے ہی اردولی آیا اور اس نے مولوی صاحب کو کمرہ سے باہر کہ دیا مولوی صاحب وہاں سے نکلے تو خیال کیا کہ اگر یہ بات باہر نکل گئی تو بد نامی ہوگی اس لئے اندر کے معامہ کے انتخا کے لئے ایک کرسی پر جو برآمدہ میں پڑی تھی بیٹھے گئے۔اردلیوں کو چونکہ معلوم ہو چکا