تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 233
۲۲۸ دوست تھا یا یہ کہ انگریز احمدیوں کا مخالف تھا۔پس یہ الزام جو ہماری جماعت پر عائد کیا جاتا ہے بالکل بے بنیاد اور واقعات کے سراسر خلاف ہے یا لے باؤنڈری کمیشن میں ن میمونم ا ا ا اس پہلے الزام کا واقعاتی جائزہ لینے کے بعد فرمایا:- " احرار نے عوام کو بھڑ کانے کے لئے یہ جھوٹا الزام بھی یکیشن میں الگ پیش کرنے کے اعتراض کا جواب تراشا ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحبے باؤنڈری کمیشن کے موقع پر ملک سے غداری کی چنانچہ اخبار آزاد اور دسمبر 1999ء لکھتا ہے :۔" اگلے دن سکھوں نے اپنا کیس نہیں کیا کہ نکا نہ ہماری زیارت گاہ ہے اسے کھلا شہر قرار دیا جائے ہمارے ظفر اللہ خاں صاحب بھی آن موجود ہوئے کہ آج کی پھر پیش ہونا چاہتا ہوں مجھے بھی اجازت دی جائے۔آج میں نے مسلمانوں کا کیس نہیں نہیں کرتا بلکہ جماعت احمدیہ کا کیس سکھوں کے مقابلہ میں نہیں کرنا ہے تاکہ قادیان بھی کھلا شہر قرار دیا جائے ستیل واد نے اعتراض کیا کہ اس نام کی کیا کوئی قیت ملک میں موجود ہے۔ظفر اللہ نے کہا ہم اقلیت ہیں ہم تمام مسلمانوں سے علیحدہ ہیں یا 151959 آزاد و دسمبر ۱۹۲۹) یہ ان لوگوں کا بیان ہے جو اپنے آپ کو شریعت کے ٹھیکیدار سمجھے اور ختم نبوت کے محافظ کہلاتے ہیں۔اور جن کا لیڈر یہ کہا کرتا ہے کہ یکس آلِ رسول ہوں۔اس جھوٹ کے بعد انہیں پتہ لگا کہ احمدیوں کی طرف سے میمورنڈم چوہدری ظفر اللہ خال صاحب نے پیش ہی نہیں کیا بلکہ شیخ بشیر احمد صاحدی نے پیش کیا تھا۔اس پر سول اینڈ ملٹری گزٹ میں انہوں نے یہ نوٹ شائع کر دیا کہ : شیخ بشیر احد نے جو لاہور کی جماعت احمدیہ کے امیر ہیں باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنی جاگت کی طرف سے وکالت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ضلع گورداسپور جو اس وقت تک ۳ مارچ مکہ کی ابتدائی سکیم کے مطابق پاکستان کا حصہ تھا ضرور اس سے علیحدہ کر دیا جائے اور قادیانیوں کی ایک علیحدہ او آزاد ریاست بنادی جائے۔اس نے اپنے دعوی کی بنیا د اس بات پر رکھی تھی کہ چونکہ قادیانی مسلمانوں کا حصہ نہیں ہیں اس لئے ان کو علیحدہ وحدت تسلیم کیا جائے ! ر آپ اسے۔سول اینڈ ملٹری گزٹ اار دسمبر ر ) ظاہر ہے کہ اس بات کو مسلمانوں کے سامنے پیش کرنے کے معنی ہی یہ تھے کہ جن لوگوں کو واقعات له الفضل ۱۹ مارچ ۱۹۶۳ء مطابق ۱۹ رایان ۱۳۲۲ بهش صده تا مکه به