تاریخ احمدیت (جلد 13)

by Other Authors

Page 230 of 455

تاریخ احمدیت (جلد 13) — Page 230

۲۲۵ احمدیت انگریزوں کی قائم کی ہوئی ہے۔ہمارے بڑے بھائی مرزہ اسلطان احمد صاحب مرحوم بیان کیا کرتے تھے کہ ابھی وہ احمدی نہیں ہوئے تھے کہ وہ ڈی سی جالندھر کو کسی کام کے سلسلہ میں ملنے کے لئے گئے۔اس نے کہا مجھے یہ معلوم کر کے بڑی خوشی ہوئی ہے کہ آپ اپنے باپ والا عقیدہ نہیں رکھتے۔مرزا سلطان احمد صاحب گو احمدی نہیں تھے لیکن ان میں غیرت پائی جاتی تھی۔انہوں نے ڈی میسی کو کہا کہ آپ نے تو مجھے حرام زادہ قرار دیا ہے۔اس نے کہا آپ کو کس نے ایسا کہا ہے میں نے تو نہیں کہا۔مرزا اسلطان احمد صاحب نے جواب دیا کہ جو شخص اپنے باپ کا معاف ہوتا ہے وہ حرام زادہ ہی ہوتا ہے۔اس پہ اُس نے معذرت کی کہ مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔غرض عیسائیوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اتنی مخالفت پائی بھاتی تھی کہ ایک عیسائی ڈی میسی مرزا سلطان احمد صاحب کو اپنے باپ کی جماعت میں شامل نہ ہونے پر مبارکباد دیتا ہے۔قار یان جانے والوں پر پہرہ اُس وقت تک قائم رہا جب تک کہ آپ کی وفات سے دو سال قبل ائیٹس (ABDELTS ) نہ آیا۔اُس نے یہ سوال اُٹھایا کہ یہ پورہ کیوں ہے۔جب اس بات کا کوئی شہوت، نہیں کہ مرتا صاحب نے حکومت کے خلاف کوئی اقدام کیا ہے وہ ایک مذہبی آدمی ہیں تو پھر یو نہی اتنے آدمی دستہ پر کیوں بٹھائے جاتے ہیں اور کیوں اتنا روپیہ خرچ کیا جاتا ہے ، چنانچہ اس کے آنے پر خفیہ پولیس کی ڈائریوں کا مسلہ ختم ہوا۔اگر ہم انگریزوں کے ایجنٹ ہوتے تو پادری مارٹن کلارک ہماری مدد کرتا لیکن اس نے ہماری مخالفت کی اور اس کی تائید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے کی مولوی میر حسین صاحب بھانوی نے کہا کہ عدالت میں میں بھی یہی کہوں گا کہ مرزا صاحب نے عبد الحمید کو آپ کے قتل کے لئے بھیجا تھا اور سر ڈگلس صاحب گورداسپور آئے تو پادریوں نے انہیں بار بار کہا کہ مرزا غلام احمد ہمارے دین کی بہتک کرتا ہے اسے کسی نہ کسی طرح ضرور سزاملنی چاہیئے۔پھر جب امرتسر کے ڈی سی مسٹر ہے۔ای مارٹینو نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تسلامت وارنٹ گرفتاری جاری کرائے اور بعد میں اسے خیال آیا کہ اس نے یہ حکم خلاف قانون دیا ہے وہ گورداسپور کے کسی ملزم کے نام وارنٹ جاری نہیں کر سکتا تو اس نے ڈپٹی کمشنر گورداسپور مسٹر ڈگلس کو تار دیا کہ میں نے غلطی سے مرزا غلام احمد قادیانی کے جو وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں انہیں منسوخ سمجھا جائے۔انگریز افسر عموماً اپنے ساتھیوں سے مشورہ لے لیتے ہیں انہوں نے دوسرے افسروں کو بلوا کر ان سے مشورہ لیا مسلمان افسروں نے کہا مرزا غلام احمد صاحب